بیجنگ: (پاک ترک نیوز)دنیا میں جنگیں صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، نمبرز بھی طاقت ہوتے ہیں۔آج ہم بات کریں گے دنیا کی پچیس سب سے بڑی فوجوں کی، جنہیں ایک عالمی رپورٹ میں ایکٹیو ٹروپس یعنی حاضر سروس فوجیوں کی تعداد کے حساب سے رینک کیا گیا ہے۔
یہ ڈیٹا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کی ملٹری بیلنس ٹوئنٹی ٹوئنٹی فائیو رپورٹ سے لیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر بزنس انسائیڈر نے یہ فہرست تیار کی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ چاہے ٹیکنالوجی کتنی ہی ایڈوانس کیوں نہ ہو، اصل طاقت پھر بھی انسان ہی ہوتا ہے۔سپاہی، پائلٹ، نیوی کے سیلرز، اسپیشل فورسز—یہ سب کسی بھی ملک کی فوجی پہنچ اور اثر و رسوخ کا پیمانہ ہوتے ہیں۔
فہرست کے نچلے حصے میں عراق، مراکش، فرانس اور جاپان جیسے ممالک ہیں، جن کی ایکٹیو فورس دو سے ڈھائی لاکھ کے درمیان ہے۔
درمیانی رینکنگ میں ترکیہ، برازیل، انڈونیشیا اور مصر آتے ہیں۔ٹاپ ٹین میں داخل ہوتے ہی تصویر بدل جاتی ہے۔ایران کے پاس چھ لاکھ سے زائد فوجی ہیں،پاکستان ساتویں نمبر پر ہے، جس کے ایکٹیو فوجیوں کی تعداد تقریباً چھ لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔
یوکرین، روس کے ساتھ جاری جنگ کے باعث، چھٹے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔پانچویں نمبر پر روس ہے، جس کے ایکٹیو ٹروپس گیارہ لاکھ سے زیادہ ہیں۔
چوتھے نمبر پر نارتھ کوریا ہے، جو اپنی آبادی کے مقابلے میں حیران کن حد تک بڑی فوج رکھتا ہے۔
تیسرے نمبر پر امریکا ہے، جس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا ڈیفنس بجٹ ہے، لیکن فوجیوں کی تعداد چین اور بھارت سے کم ہے۔
دوسرے نمبر پر بھارت ہے، جس کے ایکٹیو فوجی تقریباً پندرہ لاکھ ہیں۔اور پہلے نمبر پر چین ، بیس لاکھ سے زائد ایکٹیو فوجیوں کے ساتھ، دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نمبر سب کچھ نہیں ہوتے۔ٹریننگ، ایکوپمنٹ، ٹیکنالوجی اور ریڈی نیس—یہ سب مل کر اصل طاقت بناتے ہیں۔لیکن ایک بات طے ہے:یہ نمبر بتاتے ہیں کہ دنیا میں کون سا ملک جنگ کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔












