واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اقوامِ متحدہ کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ عالمی امن کے معاملات میں یو این کی ذمہ داریاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔
عہدۂ صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست، عسکری اتحادوں اور بین الاقوامی تنازعات پر کھل کر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد کو مضبوط رکھنے میں ان کا کردار فیصلہ کن رہا ہے، اور جتنا کام انہوں نے نیٹو کے لیے کیا ہے، ماضی میں کسی امریکی صدر نے نہیں کیا۔
گرین لینڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر ایسا حل نکالا جائے گا جس سے امریکا اور نیٹو دونوں مطمئن ہوں۔
انہوں نے برطانیہ اور فرانس کی قیادت کے ساتھ تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کی سطح پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے، تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پیرس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
لاطینی امریکا سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں، البتہ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا اب تک وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل حاصل کر چکا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس دوران آٹھ جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ ان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ آپ کی مداخلت سے کروڑوں جانیں بچ گئیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر پاک بھارت جنگ نہ روکی جاتی تو حالات انتہائی خطرناک رخ اختیار کر سکتے تھے، اور خدشہ تھا کہ یہ تنازع لاکھوں نہیں بلکہ ایک سے دو کروڑ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے اب تک آٹھ بڑی جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا ہے، اور یہ اقدامات کسی نوبل انعام کے حصول کے لیے نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کے ان بیانات نے ایک بار پھر عالمی سفارت کاری، عسکری طاقت اور امریکا کے عالمی کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔












