
از: سہیل شہریار
پاکستان کی دفاعی مصنوعات میں دنیا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مختلف دوست ممالک کی جانب سےفضائی، بری اور بحری دفاعی مصنوعات کی خریداری کے لئے جاری گفت و شنید کے تناظر میں ملک کو اگلے تین برسوں میں دفاعی برآمدات سے کم بیش 13ارب ڈالر زرمبادلہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔
جو ملک کے موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر کے 82فیصد کے برابر ہے۔ پاکستان کی دفاعی برآمدی صنعت عالمی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافے سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اور اسکے ڈرونز اور جدید ترین میزائل سسٹم کی تیاری اور فروخت کےروشن امکانات موجود ہیں۔ تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 13 ارب ڈالرکو چھوتے ہوئے پائپ لائن میں دفاعی برآمدی سودےملک کے بیرونی کھاتوں کی پوزیشن کو نمایاں طور پر مضبوط کر سکتےہیں۔ساتھ ہی اس سے دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کو بڑھاوا ملنے کے علاوہ ملک ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔جبکہ یہ دفاعی سودے ملک کے لئے 2026-2030 کے دوران اہم معاشی محرک ثابت ہوسکتے ہیں۔
کے ٹریڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکی تحقیق کے مطابق ان سودوں کی کل مالیت پہلے ہی تقریباً 13 ارب ڈالر کے قریب ہے۔اور اب انڈونیشیا خریداری میں دلچسپی رکھنے والا نیا ملک بن کر سامنے آگیا ہے۔چنانچہ اس کا مجموعی اقتصادی اعشاریوں پر اہم اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سےہمارے ایف ایکس کے ذخائر میں 82 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور اس سے اڑان پاکستان کے تحت 2029 تک 60 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کی دفاعی پیداوار کے شعبے میں ہونے والی ہلچل معاون صنعتوں بشمول اجزاء فراہم کرنے والے، ایونکس مینوفیکچررز، اور تربیتی خدمات میں سرمایہ کاری کو متحرک کر سکتی ہے۔ اور یہ پوری معیشت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی زیر نظر دفاعی برآمدات صرف لڑاکا طیاروں تک ہی محدود نہیں ہیں ۔بلکہ ان میں ڈرونز، الخالد ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، بحری جہاز، چھوٹے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے علاوہ تربیتی و دیگر خدمات شامل ہیں، جو مختلف اقسام کے استعمال اور صلاحیتوں کے حامل فوجی سازوسامان کے پورٹ فولیو کی عکاسی کرتی ہیں۔
پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (پی اے سی کامرہ)، پاکستان آرڈیننس فیکٹر یز (پی او ایف واہ)، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (کے ایس ای ڈبلیو) جیسے ادارے ان برآمدات میں اہم کردار کے حامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی دفاعی مصنوعات میں خریداروں کی سب سے زیادہ دلچسپی JF-17 تھنڈر بلاک تھری میں دیکھی جارہی ہے جو کہ 4.5 جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہے۔
گزشتہ برسوں میں ایران، سری لنکا، زمبابوے، الجزائر، ایتھوپیا، ارجنٹائن اور ازبکستان نے بھی ان طیاروں میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش کےدرمیان 48جدیدجے ایف۔ 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بات چیت حتمی مرحلے میں ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال سے باہمی دفاعی معاہدے میں بندھےپاکستان اور سعودی عرب تقریباً 2 ارب ڈالر کے قرضوں کو سارے ساز وسامان کے ساتھ جے ایف۔ 17 لڑاکا طیاروں کی خریداری میں تبدیل کرنےسمیت مجموعی طو پر4سے6ارب ڈالر کے معاہدےکے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ جس سے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی فوجی تعاون مزید گہرا ہو گا۔
قبل ازیں ازبکستان سے 16جے ایف ۔17کا معاہدہ طے پا چکا ہے اور طیاروں کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے ۔ اب ازبکستان اس خریداری کو 40طیاروں تک بڑھانے کا خواہاں ہے۔پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کے ہتھیاروںکی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا ہے۔اسی طرح سوڈان کے ساتھ بھی ڈیڑھ ارب ڈالر کے لڑاکا طیاروں ،ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ ہوا ہے۔












