اسلام آباد (پاک ترک نیوز )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کو اسلامی دنیا کے اتحاد کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلامی دنیا کی مشترکہ دفاعی قوت ہمیشہ سے ہماری خواہش رہی ہے، پاک سعودی اور ترکیہ دفاعی معاہدے میں دیگر اسلامی ممالک کو بھی شریک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب مسلم امہ کی قیادت کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ جے یو آئی کے منشور اور نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلامی بلاک کا قیام روزِ اول سے جے یو آئی کے منشور کا حصہ رہا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور اجتماعی سلامتی کا مضبوط ستون ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امت مسلمہ کے درمیان مطلوبہ اتحاد اور یکجہتی کی نمائندگی کرتا ہے اور اس امر کا ثبوت ہے کہ امت مسلمہ کے مفادات مشترک ہیں۔
جے یو آئی سربراہ کے مطابق دفاعی معاہدہ اسلامی مقدسات کے وقار اور تحفظ کے عزم کی علامت بھی ہے، جبکہ یہ اسلامی ممالک کے درمیان مزید قریبی تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاک سعودی ترکیہ دفاعی معاہدہ ملت اسلامیہ کی مضبوطی، یکجہتی اور اتحاد کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب حرمین شریفین کی نگہبانی کے اعزاز کے باعث تمام مسلمانوں کے دلوں میں بلند مقام رکھتا ہے، جبکہ پاکستانی عوام حرمین شریفین کے دفاع کو عظیم اعزاز اور مقدس مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے دعا کی کہ پاک سعودی ترکیہ دفاعی معاہدہ پوری امت مسلمہ کے عروج اور نشاۃِ ثانیہ کا ذریعہ بنے۔
انہوں نے جے یو آئی کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے سربراہان کو دلی مبارکباد بھی پیش کی۔












