تہران : (پاک ترک نیوز)ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، اور اب تک قریباً 600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ایران پر حملے کی دھمکی دیدی ہے۔ اس صورتحال میں بہت سے پاکستانی ایران میں پھنس چکے ہیں۔ اگر امریکا کا حملہ ہوا تو ان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس حوالے سے پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے پاکستانی شہریوں کو وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری پر مکمل طور پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث شہری غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور ہر وقت پاکستانی سفارتخانے سے رابطے میں رہیں۔
ایران میں وائی فائی سروس معطل ہے جبکہ ٹیلی فون سسٹم بھی جزوی طور پر متاثر ہوا ہے۔مدثر ٹیپو نے واضح کیا کہ اس کے باوجود ایرانی شہروں میں قائم پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹس کی لینڈ لائن سروس فعال ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں پاکستانی شہری اُنکے نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بذریعہ سڑک وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کو ہدایت کی کہ سرحدی گزرگاہ بند ہونے سے کم از کم چار گھنٹے قبل بارڈر پر پہنچنا یقینی بنائیں۔
سفیر پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واپسی کے وقت پاسپورٹ پر امیگریشن اسٹیمپ لگوانا لازمی ہے تاکہ بعد میں کسی قانونی پیچیدگی کا سامنا نہ ہو۔
طلبہ کے حوالے سے مدثر ٹیپو نے کہاکہ پاکستان واپسی کے خواہشمند طلبہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق روانگی اختیار کریں اور اپنی متعلقہ یونیورسٹی سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔
سفیر پاکستان کے مطابق سفارتخانہ ایرانی بارڈر حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ پاکستانی شہریوں اور طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 72 پاکستانی طلبہ پاکستان روانہ ہو چکے ہیں جبکہ دیگر طلبہ کی واپسی کا عمل جاری ہے۔












