لاہور: (پاک ترک نیوز)گرم مشروبات زندگی کو سکون دینے کے لیے ہوتے ہیں، مگر وہ بہت زیادہ گرم ہوں تو صرف راحت نہیں بلکہ صحت کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔
اکثرافراد چائے یا کافی اس وقت پیتے ہیں جب اس میں سے گرما گرم دھواں نکل رہا ہو، کیونکہ یہ محسوس ہونے والی حرارت ذہنی سکون دیتی ہے۔
لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ غذا کی نالی نرم اور حساس ہوتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر شدید گرمی برداشت کرنے کے لیے نہیں بنی۔چھوٹے چھوٹے جلن والے لمحات اکثر محسوس نہیں ہوتے، لیکن یہ گلے کے اندر جمع ہو کر وقت کے ساتھ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
برطانیہ کے بائیو بینک کی ایک ریسرچ کے مطابق جو لوگ اپنی چائے یا کافی بہت زیادہ گرم پیتے ہیں، ان میں وقت کے ساتھ گلے کے سرطان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وہ ممالک جہاں لوگ چائے یا مشروبات ابال کر یا دھواں نکلتے ہوئے پیتے ہیں، وہاں گلے کے سرطان کی شرح زیادہ ہے۔
گلے کی نالی معدے کی طرح محفوظ نہیں ہوتی، یہ باریک اور حساس ہے۔بہت گرم مشروب بار بار پینے سے اندر کی پرت جلن محسوس کرتی ہے، کبھی ٹھیک ہوتی ہے اور پھر دوبارہ جلن شروع ہوجاتی ہے ۔
وقت کے ساتھ، یہ مسلسل دباؤ خلیوں کے رویے کو بدل سکتا ہے اور خطرہ بڑھاتا ہے۔بڑے گھونٹ زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں کیونکہ مشروب گلے میں زیادہ دیر رہتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، روزانہ آٹھ یا زیادہ انتہائی گرم مشروبات پینے سے گلے کے سرطان کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔اگر مشروبات کم ہی کیوں نہ ہوں، لیکن زیادہ گرم ہوں، تب بھی خطرہ موجود رہتا ہے۔تھرماس یا تھرمل مگ مشروب کو زیادہ دیر تک گرم رکھتے ہیں، اس لیے صبح کا ایک کپ بھی دن میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔












