واشنگٹن :(پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے بڑے پیمانے پر علیحدگی اختیار کرنے جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے تحت امریکا 66 اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں سے دستبردار ہو جائے گا، جن میں موسمیاتی تبدیلی، امن اور جمہوریت کے لیے کام کرنے والے اہم عالمی فورمز بھی شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک صدارتی میمورنڈم میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس جائزے کے بعد کیا گیا ہے جس میں یہ دیکھا گیا کہ کون سے “ادارے، معاہدے اور کنونشنز امریکا کے قومی مفادات کے خلاف ہیں”۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان فیصلوں کے بعد امریکا نہ صرف ان اداروں میں شرکت ختم کرے گا بلکہ ان کو دی جانے والی تمام مالی امداد بھی بند کر دی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست میں 35 ایسے ادارے شامل ہیں جو اقوامِ متحدہ سے باہر شمار کیے گئے، جن میں بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC)، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس، اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نمایاں ہیں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے IPCC کو غیر اقوامِ متحدہ ادارہ قرار دیا، تاہم یہ درحقیقت اقوامِ متحدہ ہی کا ایک سائنسی ادارہ ہے جو دنیا بھر کے ماہرین کو یکجا کر کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق شواہد کا جائزہ لیتا اور عالمی رہنماؤں کے لیے سائنسی رپورٹس تیار کرتا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا 31 اقوامِ متحدہ کے اداروں سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں اقوامِ متحدہ کا موسمیاتی معاہدہ فریم ورک (UNFCCC)، اقوامِ متحدہ کا جمہوریت فنڈ، اور ماں و بچے کی صحت کے لیے کام کرنے والا ادارہ UNFPA شامل ہے۔جن اداروں سے امریکا دستبردار ہو رہا ہے، ان میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو جنگوں کے دوران خطرے سے دوچار طبقات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں، جیسے کہ بچوں کو مسلح تنازعات سے بچانے والا اقوامِ متحدہ کا خصوصی دفتر۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ اس اعلان پر باضابطہ ردعمل دے گی۔ اگرچہ صدر ٹرمپ عوامی سطح پر اقوامِ متحدہ میں امریکی کردار کم کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، تاہم وہ عالمی سطح پر فیصلوں پر اثرانداز ہونے سے باز نہیں آئے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے ان سفارت کاروں پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دی تھی جنہوں نے آلودگی پھیلانے والے بحری ایندھن پر ٹیکس کی حمایت کی، جس کے باعث یہ معاہدہ 12 ماہ کے لیے مؤخر ہو گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر بھی پابندیاں عائد کیں، جب انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ میں بین الاقوامی اور امریکی کمپنیوں کے کردار پر رپورٹ شائع کی۔
2017 میں بھی صدر ٹرمپ نے ان ممالک کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی جنہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی حمایت کی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے امریکا ویٹو پاور رکھتا ہے، جسے اس نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی کئی کوششوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا، تاہم بعد میں جنگ بندی میں ثالثی بھی کی۔
جنوری میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد صدر ٹرمپ پہلے ہی عالمی ادارۂ صحت (WHO)، پیرس ماحولیاتی معاہدے اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے امریکا کو نکال چکے ہیں۔
یہی فیصلے وہ اپنی پہلی صدارت کے دوران بھی کر چکے تھے، تاہم بعد میں سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ان فیصلوں کو واپس لے لیا تھا۔عالمی ادارۂ صحت سے امریکی انخلا 22 جنوری 2026 کو نافذ العمل ہو گا، یعنی وائٹ ہاؤس کے حکم کے ایک سال بعد۔
2024 اور 2025 کے دوران امریکا نے عالمی ادارۂ صحت کو 261 ملین ڈالر فراہم کیے، جو ادارے کی مجموعی فنڈنگ کا تقریباً 18 فیصد بنتا ہے۔ یہ ادارہ تپ دق، وبائی امراض اور کووِڈ 19 جیسے عالمی صحت کے بحرانوں سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے UNRWA کی فنڈنگ پر پابندی بھی برقرار رکھی ہوئی ہے، جو بائیڈن دور میں عائد کی گئی تھی۔












