واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)ماضی میں تختہ الٹنے سے لے کر جدید دور کے رجیم چینج آپریشنز تک، عالمی طاقتیں ہمیشہ حکومتیں گرانے میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ آج اس حوالے سے سب سے زیادہ بدنام سپر پاور امریکہ ہے۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکہ عالمی سیاست میں مداخلت کرتا ہے اور جو حکومت پسند نہ آئے، اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔ اچانک ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ مضبوط حکومتیں لمحوں میں گر جاتی ہیں اور ان کی جگہ من پسند، وفادار چہرے بٹھا دیے جاتے ہیں۔
وینزویلا میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا،پہلے پابندیاں، پھر معاشی دباؤ، خفیہ منصوبے، اور بالآخر فوجی کارروائی کے ذریعے صدر کو منظر سے ہٹا دیا گیا۔لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ امریکہ کی سیاسی مداخلت کی ایسی کہانیاں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں، جن کا اعتراف خود امریکی سیاست دان فخر سے کرتے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن برنی سینڈرز کھلے الفاظ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ امریکہ دنیا بھر میں حکومتیں گرانے میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ بھی امریکی کردار پر پہلے ہی سوالات اٹھا چکے ہیں اور انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے قتل میں بھی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ذمہ دار قرار دیا تھا، جبکہ جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق بھی اپنے والد کی موت میں امریکہ پر شبہ ظاہر کرتے رہے ہیں۔
سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا رہا ہے کہ یہ سب امریکہ کی ناراضی کا نتیجہ تھا، کیونکہ جب بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔
امریکہ نے کئی ممالک میں صرف اپنی تجارتی کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سی آئی اے کو استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایران میں منتخب وزیرِاعظم محمد مصدق کا تختہ الٹ دیا گیا، کیونکہ انہوں نے برطانوی کمپنیوں کو حکومتی تحویل میں لے لیا تھا۔
اسی طرح 1954میں گوئٹے مالا کے صدر جوکو بارلس کو زرعی اصلاحات کے جرم میں ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ اصلاحات امریکی فروٹ کمپنی کے مفادات کے خلاف تھیں۔
کانگو کی آزادی کے بعد پہلے وزیرِاعظم پیٹریس لوممبا کو چند ہی ماہ میں ہٹا کر قتل کر دیا گیا اور ایک بار پھر انگلیاں سی آئی اے کی طرف اٹھیں۔ 1961میں ڈومینیکن ریپبلک کے آمر رافیل کے قتل میں بھی سی آئی اے کی مدد اور سرپرستی سامنے آئی۔
ویتنام میں نگو دینھ دیم کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی، فوجی جرنیلوں نے امریکا سے مدد طلب کی اور یہ مدد فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں 1963 میں نگو دینھ دیم کو قتل کر دیا گیا۔
1964 میں برازیل کے صدر جواؤ گولارٹ کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے، فوج حرکت میں آئی اور اقتدار پر قبضہ کر لیا، اور ان مظاہروں اور بغاوت کے پیچھے بھی امریکا کی سی آئی اے کا کردار بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح چلی میں سلواڈور آلینڈے کی حکومت گرانے کے لیے امریکا نے منظم کوششیں کیں، حکومت مخالف گروہوں کو وسائل فراہم کیے گئے اور ملک کو معاشی بحران کی طرف دھکیلا گیا، حتیٰ کہ 1973 میں جنرل آگستو پنوشے نے تختہ الٹ دیا۔
یہ وہ واقعات ہیں جہاں امریکا نے خفیہ انداز میں اپنا کردار ادا کر کے حکومتیں گرائیں، جبکہ ایسے کئی مواقع بھی رہے جہاں امریکا نے کھلے عام براہِ راست مداخلت کر کے حکومتوں کا خاتمہ کیا۔
2001 میں افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت ختم کی گئی، اسی طرح 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی طویل حکمرانی کا خاتمہ بھی امریکا نے کیا۔
لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف بغاوت کو بھی امریکی حمایت حاصل تھی اور 2011 میں قذافی کو قتل کر دیا گیا، بعد میں سامنے آنے والی ای میلز سے معلوم ہوا کہ وہ خطے میں نئی کرنسی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے تھے، جسے ان کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
ایک رہنما ایسا بھی تھا جسے امریکا پسند نہیں کرتا تھا اور اسے ختم کرنے کی ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں کوششیں کی گئیں، وہ کیوبا کے صدر فیدل کاسترو تھے، جنہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئی اے نے 634 بار قتل کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ تختہ نہ بھی الٹے تو سیاسی عمل میں دخل ضرور دیتا ہے ۔
پاکستان کی سیاست میں بھی امریکی کردار بارہا زیرِ بحث آیا، حتیٰ کہ بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان این آر او میں بھی امریکی کردار کا ذکر ملتا ہے، جس کا تذکرہ سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔
امریکا کی سیاسی مداخلت کی یہ داستان کئی دہائیوں پر محیط ہے اور آج یہی کہانی وینزویلا میں دہرائی جا رہی ہے، اب سوال یہ نہیں کہ امریکا ماضی میں کیا کر چکا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا کی رجیم چینج پالیسی کا اگلا ہدف ایران ہوگا۔












