کاراکاس:(پاک ترک نیوز) وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے ساتھ جہازوں کی پرواز جیسی آوازیں اور امریکی ہیلی کاپٹرز کی نچلی پروازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دے چکے ہیں۔
دھماکوں کی آوازیں تقریباً 2:15 بجے تک سنائی دیتی رہیں، تاہم ان کے درست مقام کا تعین نہ ہو سکا۔
پیر کے روز صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے وینزویلا کے مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک ڈاکنگ ایریا کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
ری پبلکن رہنما نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی امریکی فوج نے کی یا سی آئی اے نے، اور نہ ہی حملے کے مقام کی تصدیق کی، صرف اتنا کہا کہ یہ کارروائی "ساحلی علاقے” میں کی گئی۔
یہ حملہ وینزویلا کی سرزمین پر امریکا کی جانب سے پہلا معلوم زمینی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر کے حملے کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید، تاہم جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ وہ کئی ہفتوں سے جاری امریکی فوجی دباؤ کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو پر منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کی سربراہی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا منشیات اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہا ہے۔
تاہم بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ واشنگٹن کا اصل مقصد ان کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے، کیونکہ وینزویلا دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ثابت شدہ ذخائر رکھتا ہے۔
امریکا نے وینزویلا پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے غیر اعلانیہ طور پر اس کی فضائی حدود محدود کر دی ہیں، نئی پابندیاں عائد کی ہیں اور وینزویلا کے تیل سے لدے ٹینکروں کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
گذشتہ کئی ہفتوں سے صدر ٹرمپ خطے میں منشیات کارٹلز کے خلاف زمینی حملوں کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یہ کارروائیاں "جلد” شروع ہوں گی، جس کا پہلا عملی مظاہرہ ممکنہ طور پر پیر کے روز سامنے آیا۔
ستمبر کے بعد سے امریکی افواج نے کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں متعدد کشتیوں پر حملے کیے ہیں، جنہیں واشنگٹن منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں قرار دیتا ہے۔
تاہم امریکی انتظامیہ نے اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ نشانہ بنائی گئی کشتیاں واقعی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھیں، جس کے باعث ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس مہلک بحری مہم کے دوران کم از کم 30 حملوں میں 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔












