تہران:(پاک ترک نیوز) تہران — ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کم از کم 10 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ ہلاکتیں بدھ سے جاری ملک گیر احتجاج کے دوران ہوئیں، جن میں ایک نیم فوجی فورس کا رکن بھی شامل تھا، جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ہے۔
یہ مظاہرے ابتدا میں ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ کے بعد شروع ہوئے، تاہم اب یہ احتجاج حکومت مخالف نعروں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جو حالیہ برسوں میں ایرانی قیادت کے لیے سب سے بڑا اندرونی چیلنج سمجھے جا رہے ہیں۔
مغربی ایران کے ایک مقامی سرکاری عہدیدار نے، جہاں متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کے احتجاج یا غیر قانونی اجتماع سے فیصلہ کن اور بغیر کسی نرمی کے نمٹا جائے گا۔
ان ہلاکتوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو قتل کیا تو امریکا ہر وقت تیار ہے۔
اس بیان پر ایرانی حکام نے بھی سخت ردعمل دیا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ ٹرمپ کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، اور کہا کہ مظاہرے زیادہ تر پُرامن ہیں۔
انہوں نے امریکا میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کی مثال بھی دی۔ ایرانی مندوبِ اقوامِ متحدہ امیر سعید ایراوانی نے سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھ کر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایران کو اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کی ذمہ داری مکمل طور پر امریکا پر ہو گی۔ ایرانی قیادت نے ایک طرف معاشی حالات پر پُرامن احتجاج کو قابلِ فہم قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب کسی بھی بدامنی کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ایرانی پولیس کے ترجمان کے مطابق مظاہرے عوام کی بہتر زندگی کی خواہش کا اظہار ہیں، تاہم دشمن عناصر کو حالات کو انتشار میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لورستان صوبے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ غیر قانونی اجتماعات، املاک کو نقصان پہنچانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نافرمانی اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور پُرامن اجتماع کے حقوق کا احترام کیا جائے۔یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران کو غزہ، لبنان اور شام میں اپنے اتحادیوں کو بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔
جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ بھی ہو چکی ہے، جس میں امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں میں حصہ لیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مظاہرے کم از کم 20 شہروں تک پھیل چکے ہیں، تاہم ریاستی میڈیا نے ان کی کوریج محدود رکھی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کی تصدیق مشکل ہے۔
یہ احتجاج 2022 کے ان مظاہروں سے چھوٹے ہیں جو مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد شروع ہوئے تھے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔












