
از: سہیل شہریار
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اگرچہ غزہ میں قیامِ امن کےلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کے حق میں قرارداد کو منظور کر لیا ہے۔مگر امریکی صدر کے 20نکاتی منصوبے کی طرح اس قرار داد میں بھی بہت سے امور جواب طلب ہیں۔
سلامتی کونسل کے 15اراکین کے سامنے پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں امریکہ، برطانیہ ، فرانس اور پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا ۔جبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا ابتدائی طور پر دو سال کے لئےقیام شامل ہے۔ البتہ اس فورس میں جن ممالک کی افواج شامل ہوں گی، اُن کے نام سامنے نہیں آئے۔
ایک طرف مسئلہ فلسطین کے فریق اسرائیل کے انتہا پسند حکومتی وزرا اس قرار داد کو مسترد کر رہے ہیں تو دوسری جانب 19برسوں سے غزہ میں حکومت کرنے والی تنظیم حماس نے بھی سلامتی کونسل کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق اور مطالبات کو پورا نہیں کررہی۔ تاہم فلسطین اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب قرارداد پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً پائیدار امن کے لئے دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت ناگزیر ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب اور فرانس کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کی توثیق کرنے والے 8بڑے عرب و اسلامی ملکوں نے قرارداد کے مسودےمیں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو متن میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ جس کے نتیجے میں دیگر قراردادوںکے مقابلے میںسلامتی کونسل کی قرارداد میں فلسطین کی ریاستی حیثیت تسلیم کرنے اور حقِ خود ارادیت کے حوالے سے ایک مصدقہ حوالہ موجود ہے۔مگر اس پر عمل کیسے ہو گا اس کا قرار داد کے متن میں کہیں ذکر نہیں ۔کیونکہ اب اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جو فلسطین کی ریاستی حیثیت کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد یہ تو بتاتی ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں قیام امن مین مدد ددے گی۔ مگر اسکے اختیار اور دائرہ کار کاکہیں ذکر نہیں۔ یہ تو بتایا گیا ہے کہ یہ فورس مصر اور اسرائیل کے ساتھ ملکر غزہ کو غیر مسلح کرے گی اور وہاں نئی پولیس فورس کی تربیت کرے گی۔ مگر اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی جاری مسلسل خلاف روزیوں پر بین الاقوامی استحکام فورس کا رد عمل کیا ہو گا اسے گول کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ آٹھ بڑے اسلامی ملکوں نے ملکر یہ مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں پائیدار امن کے لئے اسرائیلی فوج کو پورے غزہ انخلا کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس کے بغیر علاقے میں استحکام اور امن کا قیام ممکن نہیں۔












