ابوظہبی ( پاک ترک نیوز) ذرا تصور کیجیے۔۔۔ آپ زمین پر کھڑے ہیں، لیکن چند لمحوں بعد خود کو چاند کی سطح پر پاتے ہیں۔ سامنے چاند جیسا منظر، اردگرد خلائی ماحول، اور قیام کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل ۔یہ کوئی سائنس فکشن فلم نہیں بلکہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پانچ ارب ڈالر کی لاگت سے مصنوعی چاند پر مشتمل ایک عظیم الشان ریزورٹ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا نام ہے ’’مون ورلڈ ریزورٹس‘‘، جس کے لیے ابوظہبی کو ممکنہ مقام قرار دیا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے آرٹیمس ٹو مشن میں چاند کے گرد سفر کرنے والے کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔جیریمی ہینسن مصنوعی چاند کی سطح، خلائی ماحول، خلا بازوں کی تربیت اور خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق شراکت داریوں کی تیاری میں مشاورت کریں گے۔منصوبے کے مطابق ایک 271 میٹر قطر کا دیوہیکل گول ڈھانچہ تعمیر کیا جائے گا، جس کی بلندی 312 میٹر ہوگی۔ اس کے اندر مصنوعی چاند اور خلائی بیس بنائی جائے گی، جبکہ چار ہزار کمروں پر مشتمل فائیو اسٹار ہوٹل بھی قائم ہوگا۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ریزورٹ ہر سال 25 لاکھ سیاحوں کی میزبانی کر سکے گا۔ یہاں آنے والے افراد کو 90 منٹ کے مصنوعی چاند کے تجربے کے لیے تقریباً 500 ڈالر، یعنی 1836 درہم ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم یہ قیمت ابتدائی تجویز ہے، حتمی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انسان ایک بار پھر چاند پر قدم رکھنے کو تیار
اور یہ صرف ایک ہوٹل نہیں ہوگا! منصوبے میں 12 ہزار رہائشی مکانات، 24 ٹاورز، پارک، جھیل، ریسٹورنٹس، شاپنگ ایریاز اور تفریحی مراکز بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔لیکن یہاں ایک اہم سوال بھی ہے! کیا واقعی انسان زمین پر چاند جیسا ماحول بنا کر سیاحت کی نئی دنیا آباد کر سکے گا؟ کیا مستقبل میں چاند دیکھنے کے لیے آسمان کی طرف نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کا رخ کرنا ہوگا؟’












