اسلام آباد (پاک ترک نیوز )ملک میں مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہونے لگا، قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 12.31 فیصد ہوگئی، ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 5 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 51 بنیادی اشیائے ضروریہ میں سے 21 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیا سستی ہوئیں جبکہ 20 کی قیمتیں برقرار رہیں۔
ہفتہ وار بنیاد پر ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 54.18 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 3.72 فیصد، آلو 2.07 فیصد اور انڈے 1.17 فیصد مہنگے ہوئے۔ تازہ دودھ، روٹی اور لہسن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں 4.20 فیصد اور ڈیزل میں 2.97 فیصد کمی ہوئی، جبکہ چنے کی دال، کیلے، پیاز، چکن، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سالانہ بنیاد پر ایل پی جی کی قیمت میں 114.88 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا، ٹماٹر 78.89 فیصد، بجلی کے پہلے سہ ماہی نرخ 52.38 فیصد، ڈیزل 39.27 فیصد اور پٹرول 36.34 فیصد مہنگا ہوا۔
اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹے کی قیمت میں 33.95 فیصد اور چکن میں 31.81 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، تاہم آلو، انڈے اور چینی سمیت بعض اشیا کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر کم رہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 11.32 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، یوں ایک ہفتے میں یہ شرح مزید بڑھ کر 12.31 فیصد تک پہنچ گئی۔












