واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے راکٹ لانچ اور خلائی مشنز کی واپسی سے متعلق ضوابط آسان بنانے کی تجویز پیش کردی، 2030 تک سالانہ ایک ہزار خلائی لانچز کا ہدف مقرر ہے۔امریکا نے تجارتی خلائی پروازوں کے لیے ضابطوں میں نرمی اور منظوری کا عمل تیز کرنے کی تیاری شروع کردی ہے، جس سے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور جیف بیزوس کی بلیو اوریجن کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے جمعرات کو خلائی راکٹوں کے لانچ اور زمین پر واپسی سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ اگلے سال خلائی سرگرمیوں کے لائسنسنگ نظام میں بھی بڑی اصلاحات کا منصوبہ ہے۔
مجوزہ تبدیلیوں کے تحت یہ واضح کیا جائے گا کہ کن حالات میں خلائی پرواز یا مشن کو قبل از وقت ختم کرنا ضروری نہیں ہوگا اور کن صورتوں میں حفاظتی وجوہات کی بنا پر مشن روکنا لازمی ہوگا۔اس کے علاوہ زمین پر واپس آتے ہوئے خلائی گاڑیوں کے ٹکڑے ہونے اور ان کے ملبے کے زمین پر موجود افراد سے ٹکرانے کے خطرات کا اندازہ لگانے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔وائٹ ہاؤس نے 2030 تک سالانہ کم از کم ایک ہزار خلائی راکٹ لانچز اور واپسی کے مشنز کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ گزشتہ سال امریکا میں مجموعی طور پر 178 لانچز کیے گئے تھے۔ یہ تعداد 2013 کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ ہے، جس میں اسپیس ایکس کا نمایاں کردار رہا ہے۔
ایف اے اے کے مطابق تجارتی خلائی نقل و حمل کے دفتر میں عملے کی تعداد بڑھائی جائے گی، ایک ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا اور مزید ایرو اسپیس انجینئرز بھرتی کیے جائیں گے تاکہ لانچ کی منظوریوں کا عمل تیز کیا جاسکے، تاہم عوامی تحفظ کو برقرار رکھا جائے گا۔












