ماسکو(پاک ترک نیوز)روس نے اپنے بحری بیڑے کے دو بڑے جنگی جہازوں، 40 سال سے زیرِ استعمال طیارہ بردار جہاز ایڈمرل کزنیٹسوف اور 37 سال پرانے جوہری طاقت سے چلنے والے جنگی کروزر پیوتر ویلیکی کو سروس سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم روسی حکام کی جانب سے ان جہازوں کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
دفاعی ویب سائٹ ڈیفنس یو اے کے مطابق پیوتر ویلیکی کی مرمت کو ناقابلِ عمل قرار دینے کے لیے ایک خصوصی کمیشن کی رائے سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل روس نے جہاز کو جدید بنانے پر بھی غور کیا تھا، جس کے تحت اس کے پرانے میزائل لانچروں کی جگہ کالیبر، اونی کس اور زیرکون میزائل داغنے کے لیے 80 جدید لانچ سیلز نصب کرنے کی تجویز تھی۔
دوسری جانب طیارہ بردار جہاز ایڈمرل کزنیٹسوف کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے۔ جولائی 2025 میں روسی میڈیا نے اسے فروخت کرنے یا ختم کرنے کے امکان کی خبر دی تھی، جبکہ 2026 میں اس کی مرمت کے دوران مبینہ بدعنوانی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق چینی بیرنگز کی فراہمی سے متعلق اس کیس میں تقریباً 30 کروڑ روبل کے نقصان کا ذکر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کے میدان میں اڑتا ہوا کمبل
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس میں بڑے سطحی جنگی جہازوں پر بھاری اخراجات جاری رکھنے یا اس کے بجائے آبدوزوں اور میزائل بردار چھوٹے جنگی جہازوں پر توجہ مرکوز کرنے کے حوالے سے بحث جاری ہے۔












