بیجنگ ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال کے دوران سلطنتِ عمان کے سلطان ہیثم بن طارق چین پہنچ گئے۔ یہ 1978 میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی عمانی سربراہِ مملکت کا چین کا پہلا دورہ ہے۔چینی میڈیا کے مطابق سلطان ہیثم بن طارق اتوار کو بیجنگ پہنچے، جہاں وہ دو روزہ سرکاری دورے کے دوران چینی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور تزویراتی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اہم موقع ہے۔ماہرین کے مطابق عمان مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں چین کی زیادہ فعال سفارتی شمولیت چاہتا ہے، خصوصاً خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے تناظر میں چین کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے تین ملکی سیریز، پاکستان کرکٹ ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ
دوسری جانب عمان اپنے وژن 2040 کے تحت تیل اور گیس پر انحصار کم کرکے معیشت کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔ چین کی قابلِ تجدید توانائی، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام، صنعتی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مہارت عمان کے لیے اہم مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عمان خطے میں امریکا، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے رکھنے والے اہم ممالک میں شامل ہے اور ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔سلطان ہیثم بن طارق کا یہ دورہ نہ صرف چین اور عمان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے بلکہ خلیجی ممالک اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سفارتی تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔












