لاہور( پاک ترک نیوز) ہم جس آکسیجن میں سانس لیتے ہیں، اس کا ایک ایسا راز سامنے آگیا ہے جس نے سائنس دانوں کو حیران کردیا! زمین کی گہرائی میں موجود پگھلی ہوئی چٹانیں، جنہیں میگما کہا جاتا ہے، آکسیجن کا بہت بڑا ذخیرہ اپنے اندر چھپا سکتی ہیں۔ نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہی آکسیجن اربوں سال پہلے زمین کی فضا کو تبدیل کرنے میں کردار ادا کرچکی ہو سکتی ہے۔ آخر زمین کے اندر یہ آکسیجن کہاں سے آئی اور آتش فشاں اس راز سے کیسے جڑے ہیں؟ دیکھیے یہ رپورٹ!زمین کو باہر سے دیکھیں تو یہ زندگی سے بھرپور ایک خوبصورت سیارہ دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کی سطح کے نیچے ایک انتہائی گرم اور پُراسرار دنیا موجود ہے۔
اب سائنس دانوں نے اسی دنیا میں آکسیجن کا ایک ایسا ذخیرہ دریافت کیا ہے جسے پہلے نظر انداز کیا جاتا رہا۔تحقیق کے مطابق زمین کی گہرائی میں موجود میگما اپنی معمول کی کیمیائی ساخت کی ضرورت سے بھی زیادہ آکسیجن جذب کرکے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اس حیران کن دریافت کے لیے سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں زمین کی گہرائی جیسے انتہائی حالات پیدا کیے۔پگھلی ہوئی چٹانوں کو بارہ سو سے اٹھارہ سو ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور سات گیگاپاسکل تک دباؤ میں آزمایا گیا۔تجربات میں سات گیگاپاسکل دباؤ پر میگما میں اضافی آکسیجن کی مقدار وزن کے تناسب سے پانچ اعشاریہ دو فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ عام فضائی دباؤ پر یہ مقدار تقریباً صفر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سلطنتِ عمان کے سلطان کا چین کا تاریخی دورہ
لیکن اس دریافت کا سب سے بڑا پہلو ابھی باقی ہے۔سائنس دانوں کے مطابق جب آکسیجن سے بھرپور میگما زمین کی گہرائی سے اوپر کی طرف حرکت کرتا ہے تو دباؤ کم ہونے کے باعث وہ اپنی اضافی آکسیجن خارج کرسکتا ہے۔محققین کا خیال ہے کہ اربوں سال پہلے بڑے پیمانے پر ہونے والے آتش فشانی دھماکوں کے دوران اس عمل نے زمین کی فضا میں آکسیجن بڑھانے میں ممکنہ کردار ادا کیا ہو۔تقریباً ڈھائی سے دو ارب سال پہلے زمین کی فضا میں آکسیجن کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ محققین نے اس دور کی آتش فشانی سرگرمیوں کے ساتھ ایک ممکنہ تعلق بھی پیش کیا ہے۔
اور اب سائنس دان اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ دوسرے سیاروں کے اندرونی حصوں میں آکسیجن کا ایسا ذخیرہ موجود ہے یا نہیں، جو وہاں زندگی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہو۔












