
از: سہیل شہریار
چھ ماہ کی تکلیف دہ بندش کے بعداتوار کے روز سے پہلی مرتبہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد، ایندھن اور گیس کے ٹرکوں کو داخلے کی اجازت مل گئی ہے۔جس کے نتیجے میںامدادی سامان کے 400 ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ مصر کے ساتھ رفح سرحدی گزر گاہ بھی منگل کے روز سے جزوی طور پر کھول دی جائے گی۔
فلسطینی شہریوں کے مطابق تباہ شدہ پٹی کے لیے امداد کا بہاؤ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو سال پر محیط غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں سب سے نمایاں کامیابی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امدادی سامان کے ٹرکوں کی غزہ میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ امدادی سامان کی آمدورفت اور شہریوں کی واپسی میں سہولت کے لیے مصر کی جانب سے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے
https://www.youtube.com/shorts/XmjBOZ-Q1SY کے انتظامات بھی کئے جارہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خوراک اور انسانی امداد لے جانے والے ٹرک اتوار کی شام سے ہی مصر کی جانب سے رفح کراسنگ سے کرم ابو سالم کراسنگ اور وہاں سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے لگے تھے۔جبکہ گزشتہ مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امداد ی سامان کے ٹرکوں کے شدید بہاؤ کی وجہ سے ’’ العوجہ ‘‘ کراسنگ بھی استعمال کی جا رہی ہے۔
پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی میں داخلے کی تیاری میں مصری جانب کی رفح کراسنگ سے 90 ٹرکوں کو کرم ابو سالم اور العوجہ کراسنگ تک پہنچایا گیا۔ اسرائیل اور حماس کے دو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق اور معاہدہ طے پانے کے نتیجے میں مصر میں رکے ہوئے امدادی سامان دو ہزار کے لگ بھگ ٹرکوں کی غزہ آمد رواں ہفتے کے دوران مکمل ہو جائے گی۔
https://www.youtube.com/watch?v=UAcGnZLm124&t=8s
اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدےپر دستخط شرم الشیخ میں ایک بڑی تقریب میںہوئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالث ملکوں کے سربراہان کے علاوہ پاکستان سمیت بیس ملکوں کے سربراہان مملکت و حکومت شریک تھے۔
اس سے قبل جمعرات کو جنگ بندی کے نفاذ کے موقع پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امورنے شمالی غزہ کی صورتحال کو "تباہ کن” قرار دیا۔ پٹی میں قحط کا اعلان دو ماہ قبل کردیا گیا تھا ۔ یہ علاقہ تقریباً ایک ماہ سے خوراک کیدستیابیسے تقریباً محروم ہے۔ یاد رہے اس دو سالہ جنگ میں تقریباً 70,000 فلسطینی شہید اور دو لاکھ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ غزہ کی پٹی کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔












