لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے۔۔۔لیکن اسی دوڑ میں ایک ایسا خطرناک موڑ سامنے آگیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت خود کمپیوٹر کے احکامات چلانے لگی۔۔۔میٹا کے نئے مصنوعی ذہانت نظام میوز کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ صارف کی ہدایت پر اوبنٹو کے بعض احکامات چلا سکتا ہے۔۔۔اور صرف احکامات ہی نہیں۔۔۔ میزبان کمپیوٹر کی تکنیکی معلومات بھی سامنے لاسکتا ہے۔۔۔یہیں سے شروع ہوتی ہے اصل تشویش۔۔۔رپورٹ کے مطابق میوز کو چلانے کے لیے اے ایم ڈی کے طاقتور ٹورِن پردازندوں پر الگ تھلگ ماحول بنائے گئے ہیں۔۔۔
ہر صارف کو دو پردازشی حصے اور آٹھ گیگا بائٹ یادداشت دی جاتی ہے۔۔۔لیکن تجربات کے دوران ایک ایسا انکشاف ہوا جس نے ماہرین کو چونکا دیا۔۔۔میوز نے اپنی نجی مجازی مشین تک دور رس رسائی قائم کرنے کی پیشکش کی۔۔۔یعنی مصنوعی ذہانت کا یہ نظام خود ایسے راستے کی طرف اشارہ کرتا دکھائی دیا جسے غلط ہاتھوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنا ہوگا، مجتبیٰ خامنہ ای
ماہرین کے مطابق اگر کوئی حملہ آور حفاظتی رکاوٹ عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ مزید خطرناک احکامات چلانے کی کوشش کرسکتا ہے۔۔۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت کی سہولت۔۔۔ سکیورٹی خطرے میں تبدیل ہوسکتی ہے!تاہم میوز مکمل طور پر بے قابو نہیں۔۔۔رپورٹ کے مطابق بعض حساس احکامات اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ناکام بھی ہوئے ہیں۔۔۔لیکن سوال بڑا ہے۔۔۔جب پانچ لاکھ سے زائد یومیہ صارفین والا مصنوعی ذہانت نظام کمپیوٹر کے احکامات چلا سکتا ہے۔۔۔تو ایک معمولی سکیورٹی خامی کتنے بڑے خطرے میں تبدیل ہوسکتی ہے؟
مصنوعی ذہانت انسان کے لیے سہولت ہے۔۔۔لیکن اگر مشین کو دی گئی طاقت کی نگرانی کمزور پڑ جائے۔۔۔تو یہی سہولت۔۔۔ سائبر خطرے کا نیا دروازہ بھی بن سکتی ہے












