تہران (پاک ترک نیوز )ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنا ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز کے محافظوں کی کارروائیوں کے بعد دشمن قوتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کے حملوں کے بعد دشمن اب بحیرۂ عرب سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کررہا۔انہوں نے امریکا کا براہِ راست نام لیے بغیر کہا کہ جب بھی دشمن قوتوں نے خطرہ مول لیا، انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اور وہ وقت دور نہیں جب بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے خالی ہوجائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکا کو بحیرۂ عرب اور مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔مجتبیٰ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے اور بعض حلقوں میں ایران کو دنیا کی چوتھی بڑی طاقت سمجھا جانے لگا ہے۔ان کے بقول ایران ماضی میں انحصار اور کمزوری کے دور سے گزر چکا ہے، اب ملک خودمختاری، طاقت اور اسلامی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن قوتوں نے ماضی میں ایران پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اب انہیں ایرانی عسکری صلاحیتوں کا سامنا ہے۔ دشمن ایران کو ماضی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے، لیکن وہ دور گزر چکا ہے اور دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف 35 کے راز چین کے ہاتھ لگنے کا خدشہ، امریکا کے جدید ترین جنگی طیارے کو بڑا خطرہ
مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جنگجوؤں اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کی کارروائیوں کے بعد دشمن قوتیں بحیرۂ عرب میں آگے بڑھنے سے گریز کررہی ہیں۔












