پیر , 21 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

امریکا مشرق وسطیٰ سے بھاگنے کو تیار

1 دن پہلے
A A
America is ready to flee the Middle East
Share on Facebookwhatsapp

ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا کو اپنی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر نظرِثانی کرنے پر مجبور کردیا۔۔۔وہ خطہ جہاں نائن الیون کے بعد امریکا نے اپنی فوجی موجودگی کئی گنا بڑھائی، اب وہیں سے امریکی فوجی اڈے اور اہلکار کم کرنے پر غور شروع ہوگیا ہے۔ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی تنصیبات کی کمزوریاں بے نقاب کردیں۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران جنگ کے بعد امریکا واقعی مشرقِ وسطیٰ سے پیچھے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے؟نائن الیون کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طاقت کا پھیلاؤ۔۔۔عراق، افغانستان، شام اور خطے کے دیگر ممالک میں جنگیں۔۔۔ہزاروں فوجی۔۔۔درجنوں فوجی تنصیبات۔۔۔اور خطے میں امریکی انٹیلی جنس کا وسیع نیٹ ورک۔۔۔لیکن ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے امریکا کے اس پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی فوج اور خفیہ اداروں میں مشرقِ وسطیٰ میں اہلکاروں اور مستقل تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے امکانات پر خاموش مشاورت جاری ہے۔اس وقت بھی خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔امریکی بحریہ کے دو بڑے جنگی جہاز اور ایک درجن سے زائد گائیڈڈ میزائل بردار تباہ کن جہاز بھی خطے میں تعینات ہیں۔لیکن ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے کئی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔۔۔بحرین۔۔۔قطر۔۔۔سعودی عرب۔۔۔کویت۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہن علیمہ خان کو گرفتار کر لیا گیا

اور خطے کے دیگر مقامات پر موجود امریکی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں۔امریکی حکام کے مطابق جنگ میں 18 امریکی فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ امریکی فوج اب اپنے کچھ اہم اڈوں کو زیرِ زمین منتقل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔یعنی ایران کے حملوں نے امریکا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ خطے میں بڑی مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھنا کس حد تک محفوظ ہے؟ذرائع کے مطابق امریکا بعض شدید متاثرہ تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے بجائے انہیں مستقل طور پر ختم کرنے پر بھی غور کرسکتا ہے۔وجہ صرف سکیورٹی نہیں۔۔۔

اربوں ڈالر کی تعمیر نو کی لاگت بھی بڑا سوال بن چکی ہے۔امریکی فوج کے اندر یہ تجویز بھی زیرِغور ہے کہ بعض حساس کارروائیوں کے لیے مستقل اڈوں کے بجائے امریکا میں موجود اہلکاروں اور وسائل کو ضرورت کے وقت مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے اور کارروائی کے بعد واپس بلا لیا جائے۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع خطے میں اپنے اتحادی ممالک پر دفاعی ذمہ داری کا زیادہ بوجھ ڈالنے پر بھی غور کررہا ہے۔یعنی امریکا کا ممکنہ نیا منصوبہ واضح ہے۔۔۔ فوج کم۔۔۔مستقل اڈے کم۔۔۔اور علاقائی اتحادیوں کی ذمہ داری زیادہ لیکن معاملہ اتنا آسان بھی نہیں۔ایران کے ساتھ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی، امریکی فوجی اڈے اب بھی ممکنہ ایرانی حملوں کی زد میں ہیں۔اور امریکا کے لیے بحرین میں قائم پانچویں بحری بیڑے سمیت کئی اہم فوجی مراکز خطے میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔

موضوعات : americairanmiddleeastwar
ShareSend

متعلقہ خبریں

Federal Interior Minister Mohsin Naqvi has left for Iran.
تازہ ترین

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران چلے گئے

21 ستمبر , 2026
Iran warns of retaliatory action against the US.
تازہ ترین

ایران کی امریکا کو جوابی کارروائی کی وارننگ

21 ستمبر , 2026
Prime Minister Shehbaz Sharif will arrive in the US today.
تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف آج امریکا پہنچیں گے

21 ستمبر , 2026
Strait of Hormuz will remain closed until conditions are met Qalibaf
تازہ ترین

آبنائے ہرمز شرائط پوری ہونے تک بند رہے گی: قالیباف

20 ستمبر , 2026
ایران کی امریکا سے مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے 3 شرائط
اہم ترین 2

ایران کی امریکا سے مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کے لیے 3 شرائط

20 ستمبر , 2026
Iranian Foreign Minister's telephone call with Ishaq Dar
تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطہ

19 ستمبر , 2026
اگلی خبر
Strait of Hormuz will remain closed until conditions are met Qalibaf

آبنائے ہرمز شرائط پوری ہونے تک بند رہے گی: قالیباف

یہ بھی پڑھیں

A battle even for six feet of land: the alarming crisis facing the city of the silent.

6فٹ زمین کے لیے بھی جنگ، شہر خاموشاں کا خوفناک بحران

21 ستمبر , 2026
کرکٹر رضوان کی میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت کی درخواست مسترد

کرکٹر رضوان کی میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت کی درخواست مسترد

21 ستمبر , 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے

وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے

21 ستمبر , 2026
امارات کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش

امارات کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش

21 ستمبر , 2026
امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار

امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار

21 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔