استنبول ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کے شہر استنبول میں قائم ڈیڑھ ہزار سال پرانی اور تاریخی آیا صوفیہ مسجد کی بحالی کا کام ایک نئے اور انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ ماہرین نے عمارت کے مشرقی نصف گنبد کو تاریخی عمارت کا سب سے کمزور حصہ قرار دیتے ہوئے اسے مضبوط بنانے کے لیے اندرونی حصے میں فولادی پلیٹ فارم نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے زلزلے کی صورت میں یہی حصہ سب سے پہلے متاثر ہوسکتا ہے۔۔۔ تاریخی آیا صوفیہ کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ جانیے اس رپورٹ میں۔۔۔یہ صرف ایک عمارت نہیں۔۔۔یہ ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کا وہ باب ہے، جس نے کئی سلطنتوں کے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔۔۔
استنبول کی تاریخی آیا صوفیہ مسجد اب بحالی کے ایک انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔۔۔ماہرین نے عمارت کے مشرقی نصف گنبد کو سب سے زیادہ کمزور حصہ قرار دیا ہے۔۔۔جدید ساختی تجزیوں کے مطابق بڑے زلزلے کی صورت میں عمارت کا یہی حصہ سب سے پہلے متاثر ہوسکتا ہے۔۔۔ اسی خطرے کے پیش نظر مشرقی نصف گنبد کے اندر فولادی پلیٹ فارم اور حفاظتی ڈھانچہ نصب کیا جا رہا ہے۔۔۔مقصد صرف عمارت کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ اس کے اندر موجود صدیوں پرانے تاریخی آثار کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔۔۔ماہرین کے مطابق مرکزی گنبد چار بڑے محرابوں پر قائم ہے، جبکہ مشرقی نصف گنبد سے جڑی محراب کو انتہائی نازک قرار دیا گیا ہے۔۔۔اسی لیے بحالی کے کام میں اسے اولین ترجیح دی گئی ہے۔۔۔آیا صوفیہ کے مرکزی گنبد پر بھی حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔۔۔قدیم موزائیک کی صفائی، گردوغبار کا خاتمہ اور تاریخی نقش و نگار کے تحفظ کا کام کیا جا رہا ہے۔۔۔گنبد سے حاصل کیے جانے والے مارٹر اور پلستر کے نمونوں کا سائنسی تجزیہ ہوگا تاکہ بحالی میں ایسا مواد استعمال کیا جائے جو اصل تعمیر سے مطابقت رکھتا ہو۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ بہت جلد ختم ہونے والی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
ماہرین کہتے ہیں کہ مقصد آیا صوفیہ کو کسی ایک دور کی شکل میں واپس لانا نہیں۔۔۔بلکہ ڈیڑھ ہزار سال کی مختلف تاریخی تہوں، اصل مواد اور منفرد شناخت کو محفوظ کرکے مستقبل تک پہنچانا ہے۔اور سب سے اہم بات۔۔۔بحالی کا یہ کام جاری رہے گا، مگر آیا صوفیہ میں عبادت اور زائرین کی آمد کا سلسلہ بھی برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔











