وینس(پاک ترک نیوز) وینس فلم فیسٹیول میں ایک ایسی دستاویزی فلم کو ریکارڈ 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی جس میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کو ممکن بنانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو دکھایا گیا ہے۔ فلم "نازا” اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے اہداف کی نشاندہی کرنے والے دو درجن ایسے افرادکے گمنام انٹرویوز کے ذریعے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی تفصیلات بیان کرتی ہے جنہوں نے اندرونی معلومات افشا کیں۔
آسکر ایوارڈ یافتہ دو اسرائیلی فلم سازوں کی جانب سے تیار کردہ، غزہ میں شہریوں کی اے آئیکے ذریعے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بارے میں ہلا دینے والی اس نئی دستاویزی فلم کو جمعرات کو وینس فلم فیسٹیول میں اس کے پریمیئر کے موقع پر 25 منٹ تک داد ملی۔اطالوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دستاویزی فلم کی نمائش کے بعد شائقین نے فلم سازو یووال ابراہم اور ریچل زور کے لیے مسلسل 25منٹ تک تالیاں بجائیں۔ یہ عمل وینس میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ کیونکہ اس سے قبل گزشتہ سال غزہ کے بارے میں بننے والی ایک اور دستاویزی فلم کو 23 منٹ تک داد دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: برمنگھم ٹیسٹ: پاکستان کا انگلینڈ کو 130 رنز کا ہدف ، رضا اللہ اور عباس کی شاندار شراکت
اپنی فلم "نازا” میں ابراہم اور زور نے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے 24 مختلف افرادکے ساتھ ہونے والی گفتگو کا استعمال کیا ہے جو اہداف کی نشاندہی کرنے پر مامور ہیں۔ ان افراد نے اس شرط پر بات کی تھی کہ ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔فلم کی نمائش کے بعد میڈیا سے گفتگو میںابراہم نے بتایا کہ ہم فوجیوں اور افسران کو اس بارے میں بات کرنے کا موقع دے رہے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔مقصد بہت سادہ تھا۔ہم زیادہ سے زیادہ تفصیل کے ساتھ یہ جاننا چاہتے تھے کہ غزہ میں ہلاکتوں کا نظام کیسا ہے اور وہ کس طرح کام کرتا ہے۔












