بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے اپنے چاند کے تحقیقاتی پروگرام میں اہم تبدیلیاں شروع کر دی ہیں، جس کے تحت چاند کے جنوبی قطب پر بھیجے جانے والے چانگ ای 8 مشن کے منصوبے میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔چین کے انسانی خلائی پرواز کے ادارے کی جانب سے چاند سے متعلق روبوٹک مشنز کی مجموعی نگرانی سنبھالنے کے بعد ملک کے چاند پر تحقیق اور اترنے کے منصوبے کی ازسرنو تشکیل کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
چانگ ای 8 مشن چین کے طویل مدتی چاند پروگرام کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب کے ماحول، سطح اور وسائل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا ہے۔چاند کے جنوبی قطب کو دنیا کی بڑی خلائی طاقتیں مستقبل کی چاند پر موجودگی کے لیے انتہائی اہم سمجھتی ہیں، کیونکہ اس علاقے میں پانی کی برف کی موجودگی کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ یہی برف مستقبل میں پینے کے پانی، آکسیجن اور خلائی مشنز کے لیے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا ڈرون ٹیکنالوجی میں نیا قدم، فضائی، زمینی اور بحری ڈرونز کو ایک ہی جنگی نظام سے جوڑنے کی تیاری
چین پہلے ہی چاند پر متعدد کامیاب مشنز بھیج چکا ہے اور اب اس کی توجہ مستقبل میں انسانوں کو چاند پر بھیجنے اور وہاں مستقل تحقیقاتی سرگرمیوں کے لیے بنیاد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔












