واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکا کا مجموعی قومی قرض 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران قرض میں اضافے کی رفتار نے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
امریکی کانگریس کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کے مطابق گزشتہ ایک سال میں امریکی قومی قرض میں فی سیکنڈ 85 ہزار 111 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا، جو فی منٹ تقریباً 51 لاکھ ڈالر، فی گھنٹہ 30 کروڑ 64 لاکھ ڈالر اور یومیہ تقریباً 7 ارب 35 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا کے مجموعی قومی قرض میں 2.67 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ پانچ برسوں کے دوران قرض 11.68 کھرب ڈالر بڑھ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی قرض 40 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا، صرف سود کی ادائیگی سالانہ 12 کھرب 50 ارب ڈالر درکار
قرض میں اضافے کی موجودہ اوسط رفتار برقرار رہی تو امریکا کا مجموعی قرض آئندہ چند ماہ میں 41 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد مزید ایک کھرب ڈالر کے اضافے میں تقریباً 151 دن لگنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
قومی قرض کا بوجھ امریکی عوام پر بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ہر امریکی شہری کے حصے میں اوسطاً ایک لاکھ 17 ہزار 279 ڈالر کا قومی قرض آتا ہے، جبکہ ہر گھرانے کے حصے میں تقریباً 2 لاکھ 97 ہزار 522 ڈالر بنتے ہیں۔
گزشتہ ایک سال میں فی امریکی شہری قرض کے بوجھ میں 7 ہزار 806 ڈالر جبکہ فی گھرانے کے حصے میں تقریباً 20 ہزار ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔











