لاہور( پاک ترک نیوز) جنگ کے میدان میں ایک ایسا انقلاب۔۔۔ جس نے دنیا کو چونکا دیا!اب جنگی طیارہ اڑانے کے لیے شاید انسان کی ضرورت بھی نہ رہے۔۔۔امریکا میں مصنوعی ذہانت نے پہلی مرتبہ ایف 16 جنگی طیارہ کامیابی سے اڑا کر تاریخ رقم کردی۔کیا مستقبل کی جنگیں پائلٹ نہیں بلکہ اے آئی مشینیں لڑیں گی؟
جنگی میدان۔۔۔جہاں ایک لمحے کی غلطی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتی ہے۔لیکن اب اسی میدان میں انسان کا سب سے بڑا حریف کوئی دشمن ملک نہیں۔۔۔بلکہ مصنوعی ذہانت بنتی جا رہی ہے۔امریکی دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈارپا نے اعلان کیا ہے کہ وینم آٹونومی کٹ نامی اے آئی سافٹ ویئر نے پہلی مرتبہ ایف 16 جنگی طیارے کو کامیابی سے اڑایا ہے۔اور سب سے حیران کن بات۔۔۔کاک پٹ میں انسانی پائلٹ موجود تھا۔۔۔لیکن پرواز کے دوران طیارے کو کنٹرول کرنے اور مختلف حربی مشقیں انجام دینے کی ذمہ داری مصنوعی ذہانت نے سنبھالی۔
یہ بھی پڑھیں: چین پاکستان میں موسمیاتی پیش گوئی اور مصنوعی ذہانت کے تعاون کو وسعت دے رہا ہے
یعنی۔۔۔پائلٹ انسان تھا، مگر طیارہ اڑا رہی تھی مشین!اے آئی نے نہ صرف طیارے کو کنٹرول کیا بلکہ بدلتی صورتحال کے مطابق فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔یہ تجربہ اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ اگر ایک مشین جنگی طیارہ اڑا سکتی ہے۔۔۔تو کیا اگلا قدم ایسا جنگی طیارہ ہوگا جس کے کاک پٹ میں کوئی انسان ہی موجود نہ ہو؟امریکی دفاعی حکام کے مطابق مستقبل میں اے آئی پائلٹس، انسانی پائلٹس کے ساتھ مل کر جنگی مشن انجام دے سکتے ہیں۔
اور اگر یہ ٹیکنالوجی مزید آگے بڑھتی ہے۔۔۔تو ایسے مشنز بھی ممکن ہو سکتے ہیں جہاں انسانی پائلٹ کی جان خطرے میں ڈالنے کے بجائے اے آئی سے چلنے والا طیارہ میدانِ جنگ میں بھیجا جائے۔سوچیے۔۔۔آسمان میں ایک جنگی طیارہ۔۔۔کاک پٹ میں کوئی انسان نہیں۔۔۔لیکن طیارہ خود راستہ منتخب کر رہا ہے۔۔۔خطرے کا اندازہ لگا رہا ہے۔۔۔اور دشمن کے مقابلے کے لیے فیصلے کر رہا ہے!یہ صرف ٹیکنالوجی کا تجربہ نہیں۔۔۔بلکہ جنگی ہوابازی کے مستقبل کی ایک جھلک بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے۔۔۔کیا آنے والی جنگوں میں انسان صرف حکم دے گا۔۔۔ اور جنگ مشینیں لڑیں گی؟کیونکہ مصنوعی ذہانت اب صرف لیبارٹریوں اور کمپیوٹرز تک محدود نہیں رہی۔۔۔یہ آسمان تک پہنچ چکی ہے۔۔۔ اور جنگی طیاروں کی باگ ڈور بھی سنبھالنے لگی ہے!












