پیرس/برلن(پاک ترک نیوز ) فرانس اور جرمنی کے درمیان اگلی نسل کے لڑاکا طیارے کی تیاری کا مشترکہ منصوبہ شدید صنعتی اور تکنیکی اختلافات کے باعث ختم ہوگیا۔ منصوبے میں بنیادی اختلاف فرانسیسی کمپنی داسو اور جرمنی کی ایئربس کے درمیان قیادت، کام کی تقسیم اور طیارے کے ڈیزائن سے متعلق تھا۔
منصوبے کے خاتمے کے بعد فرانس نے اپنے طور پر اگلی نسل کا جنگی طیارہ تیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ داسو کے سربراہ کے مطابق فرانس 2031 یا 2032 تک ایک مظاہرہ کرنے والا طیارہ فضا میں لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
مشترکہ منصوبے کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب فرانسیسی انجن ساز کمپنی سافران اور جرمن کمپنی ایم ٹی یو نے مستقبل کے جنگی طیارے کے انجن کی مشترکہ تیاری کا منصوبہ بھی ختم کردیا۔ یوں طیارے کے ڈھانچے کے بعد اس کے انجن کا مشترکہ منصوبہ بھی اختتام پذیر ہوگیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق فرانس اور جرمنی کے درمیان اختلاف صرف صنعتی حصے داری تک محدود نہیں تھا۔ فرانس ایک نسبتاً چھوٹا اور اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں سے بھی استعمال ہونے والا جنگی طیارہ چاہتا تھا، جبکہ جرمنی کی ضروریات مختلف تھیں۔












