تہران (پاک ترک نیوز )ایرانی وزیر پٹرولیم محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے کو 550 سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ایرانی وزارت پٹرولیم کی گزشتہ دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے انٹرویو میں محسن پاک نژاد نے کہا کہ تقریباً 23 سے 24 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط خارگ جزیرے کو مسلسل حملوں کا سامنا رہا۔
ایرانی وزیر کے مطابق شدید بمباری کے باوجود تیل کی برآمدات مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں اور ایرانی عملہ حملوں کے دوران بھی آئل ٹینکرز میں خام تیل بھرنے کا کام جاری رکھتا رہا۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے تقریباً 40 روزہ عرصے کے دوران ایران کی خام تیل کی برآمد ایک گھنٹے کے لیے بھی مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے، روسی وزیر خارجہ
خارگ جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہم تیل برآمدی مرکز ہے، جہاں سے جنگ سے قبل ایران اپنی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ روانہ کرتا تھا۔محسن پاک نژاد کے مطابق وزارت پٹرولیم نے حملوں کے دوران تیل کے ذخائر، پیداواری صلاحیت اور لوڈنگ تنصیبات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کی تیل و گیس کی پیداوار اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام جاری رکھا۔












