اکرا ( پاک ترک نیوز) افریقہ کے سب سے بڑے سونا پیدا کرنے والے ملک گھانا نے سونے کے برآمد کنندگان کے لیے نئی شرط نافذ کردی، جس کے تحت بعض برآمد کنندگان کو سونا بیرونِ ملک بھیجنے سے پہلے مقامی طور پر ریفائن کرنا ہوگا۔گھانا گولڈ بورڈ کے مطابق یکم ستمبر سے سیلف فنانسنگ ایگریگیٹرز کے لیے سونے کو مقامی ریفائنری میں صاف کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد ہی برآمدی درخواستوں پر کارروائی کی جائے گی۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس شرط کی خلاف ورزی کرنے والے برآمد کنندگان کے برآمدی اجازت نامے معطل یا مسترد کیے جاسکتے ہیں، جبکہ لائسنس منسوخی اور دیگر انتظامی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔
گھانا حکومت کا کہنا ہے کہ پالیسی کا مقصد سونے کی صنعت سے حاصل ہونے والی زیادہ سے زیادہ قدر ملک کے اندر برقرار رکھنا، مقامی روزگار پیدا کرنا اور ریفائننگ سے حاصل ہونے والے منافع کو بیرونِ ملک جانے سے روکنا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گھانا نے 2025 میں تقریباً 60 لاکھ اونس، یعنی 185 ٹن سونا پیدا کیا، جو امریکا کی سالانہ پیداوار سے بھی زیادہ تھا۔ اسی سال گھانا کی سونے کی برآمدات سے آمدنی تقریباً 20 ارب ڈالر رہی، جو 2024 کے 10.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیدرلینڈزکا اربوں ڈالر کا سونا امریکا سے لندن منتقل
گھانا میں اس وقت چار لائسنس یافتہ سونے کی ریفائنریز کام کر رہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقامی ریفائننگ سے ملکی معیشت کو مزید فائدہ ہوگا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور زیورات سمیت مختلف صنعتوں کے لیے ریفائن شدہ سونے کی دستیابی میں اضافہ ہوگا۔گھانا گولڈ بورڈ بڑی پیمانے کی کان کنی سے حاصل ہونے والے سونے کا 30 فیصد اسٹریٹجک ذخائر اور مقامی ریفائننگ کے لیے محفوظ رکھنے کے انتظامات بھی کر رہا ہے۔












