
از : سہیل شہریار
کسی روک ٹوک اور قاعدے قانون کے بغیر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں دنیا بھر کی حکومتوں کو چوکنا کر دیا ہے وہیںکمپیوٹر ٹیکنالوجی کی سرکردہ شخصیات نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس ان میں سب سے نمایاں ہیں۔جن کا کہنا ہے کہ اے آئی پر نمایاں حدود و قیود عائد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر اس سے انسانیت کو پہنچنے والا نقصان اس کے ممکنہ فوائد پر حاوی ہو جائے گا۔
انہوں نےاپنے تازہ مضمون میںلکھا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ہنگامہ خیز دور آ چکا ہے۔ اور اب ہونے والے فیصلے انتہائی اہم ہیں۔ کیونکہ اے آئی یا تو اب تک ایجاد ہونے والی سب سے بڑی مساوی مواقع فراہم کرنے والی چیز ثابت ہوگی۔ یا پھر ناانصافی کا بدترین ذریعہ بنے گی۔
اگرچہ بل گیٹس مصنوعی ذہانت میں ہونے والی پیش ر فت پر خدشات کا اظہار کرنے والے پہلے ٹیکنالوجی رہنما نہیں ہیں۔ تاہم ان کا مضمون کچھ اے آئی ماڈلز کے اقدامات اور ملازمتوں کے ممکنہ خاتمے کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ جبکہ اے آئی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے اور سبقت لے جانےکے لیےاندھادھند کام کر رہی ہیں۔
گزشتہ صدی میں پرسنل کمپیوٹر کے انقلاب کے دوران ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہونے والے بل گیٹس کا ماننا ہے کہ اے آئی سے آنے والا نیا تکنیکی انقلاب معاشرے کے لیے کہیں زیادہ بڑی تبدیلیوں اور سب کچھ درہم برہم کرنے کا باعث بنے گا۔چنانچہ بہترین حالات میں بھی اے آئی کے اس نئے دور میں منتقلی انسانی تاریخ کے ہنگامہ خیز ترین ادوار میں سے ایک ہوگی۔اور انہیں ایسے کوئی شواہد نظر نہیں آتے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کے چیلنجوں کا مناسب طریقے سے سامنا کر رہے ہوں۔اور نہ ہی اے آئی کے دور میں داخلے کو آسان بنانے کے لیے کوئی منصوبہ موجود ہے۔
تقریباً سبھی ٹیکنالوجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اے آئی زراعت اور طب جیسے شعبوں میں زبردست فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ اور اسکی مدد سے بیماریوں کی روک تھام اور علاج میں اہم پیش رفت ممکن ہے۔مگر اس ٹیکنالوجی کے ساتھ بڑے خطرات بھی وابستہ ہیں۔ جیسے بڑے پیمانے پر بے روزگاری، بچوں کی تعلیمی اور سماجی نشوونما کو نقصان پہنچنا، مجرموں اور برے عناصرکی جانب سےاے آئی کا استعمال یا خود مصنوعی ذہانت کا اپنے بل پر فیصلے کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے موجودہ اے اآئی ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے۔اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے مفادات کے خلاف کام کرنے لگیں اور ہم ان پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھیں۔اسی لئے ان سنگین خطرات پر جلد قابو پانا ضروری ہے۔
بل گیٹس سمیت دیگرکا کہنا ہے کہ عالمی سطح پراے آئی کی پیش رفت کی رفتار کو کم کرنے کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ ہو تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔ تاہم لگتا ہے کہ ایسا ہونے والا نہیں۔ جغرافیائی سیاسی اور معاشی محرکات اس قدر شدید ہیں کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو پوری رفتار سے آگے بڑھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کو پٹرول کے بعد بجلی کا بھی جھٹکا، فی یونٹ 2 روپے 58 پیسے مہنگی
ماہرین کی رائے ہے کہ اے آئی ماڈلز ان کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے انتہائی طاقتور ہو گئے ہیں۔ اوراب یہ ماڈلز سائی بر حملوں، حیاتیاتی دہشت گردی (بائیو ٹیررازم) اور نفسیاتی و سماجی خطرات کا باعث بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن معیارات کی بنیاد پر ہم ان ماڈلز کا جائزہ لیتے ہیں اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ وہ درحقیقت سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔












