لاہور(پاک ترک نیوز) ایک وقت تھا جب تصویر بنانے کے لیے فنکار کی انگلیاں برش تھامتی تھیں۔۔۔ آج صرف چند الفاظ لکھیں اور مصنوعی ذہانت چند سیکنڈز میں شاہکار تخلیق کر دیتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے۔۔۔ کیا آرٹ کا مستقبل خطرے میں ہے؟ کیا اے آئی فنکاروں سے ان کا روزگار چھین لے گا؟ یا پھر یہ ٹیکنالوجی فنکاروں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے؟مصنوعی ذہانت۔۔۔ یعنی اے آئی۔۔۔ نے تخلیقی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔اب تصویر ہو، لوگو ہو، اشتہار ہو، تھمب نیل ہو یا فلم کا منظر۔۔۔ چند الفاظ لکھیں اور اے آئی چند لمحوں میں اسے تیار کردیتی ہے۔جو کام کبھی گھنٹوں، دنوں بلکہ ہفتوں میں مکمل ہوتا تھا۔۔۔ اب وہ چند منٹوں میں ممکن ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا بھر کے فنکاروں کے ذہن میں ایک سوال گردش کررہا ہے۔۔اگر مشین انسان جیسا آرٹ بنا سکتی ہے تو پھر انسان کو آرٹ بنانے کی ضرورت کیوں پڑے گی؟
ڈیجیٹل آرٹسٹ، گرافک ڈیزائنرز، السٹریٹرز، فوٹوگرافرز اور دیگر تخلیق کاروں کو خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں ان کے روایتی کام کی مانگ کم ہوسکتی ہے۔لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔اے آئی صرف فنکار کا مقابل نہیں۔۔۔ فنکار کا طاقتور ترین اوزار بھی بن سکتی ہے۔ایک فنکار اے آئی کی مدد سے سیکڑوں آئیڈیاز آزما سکتا ہے، مختلف انداز دیکھ سکتا ہے، ابتدائی خاکہ چند لمحوں میں تیار کرسکتا ہے اور پھر اپنی تخلیقی صلاحیت سے اسے منفرد شکل دے سکتا ہے۔یعنی مستقبل شاید اے آئی بمقابلہ انسان کا نہیں بلکہ اے آئی پلس انسان کا ہے۔مشین رفتار دے سکتی ہے۔۔۔لیکن خیال؟
یہ بھی پڑھیں: فوجی شعبے میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ
احساس؟تجربہ؟ اور وہ کہانی جو کسی فن پارے کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔۔۔؟یہاں آج بھی انسان سب سے آگے ہے۔ایک اے آئی کو کہیں کہ اداس ماں کی تصویر بناؤ۔۔۔ وہ تصویر بنا دے گی۔لیکن ایک فنکار جس نے ماں کی جدائی دیکھی ہو۔۔۔ اس درد کو کس طرح رنگوں میں اتارے گا، یہ صرف ٹیکنالوجی طے نہیں کرسکتی۔کیونکہ آرٹ صرف تصویر نہیں۔۔۔ احساس کا اظہار بھی ہے۔تاہم خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ جس کام کے لیے پہلے پانچ افراد درکار ہوتے تھے، ممکن ہے مستقبل میں ایک شخص اے آئی کی مدد سے وہی کام انجام دے دے۔یعنی اے آئی کچھ ملازمتیں ختم کرسکتی ہے۔۔۔لیکن ساتھ ہی نئے شعبے بھی پیدا کرسکتی ہے۔
اے آئی آرٹ ڈائریکٹر، پرامپٹ ڈیزائنر، اے آئی ایڈیٹر اور انسان و اے آئی کے درمیان تخلیقی رابطہ قائم کرنے والے نئے کردار سامنے آ رہے ہیں۔اصل مقابلہ شاید فنکار اور اے آئی کے درمیان نہیں۔۔۔بلکہ اے آئی استعمال کرنے والے فنکار اور اے آئی استعمال نہ کرنے والے فنکار کے درمیان ہونے والا ہے۔جو فنکار ٹیکنالوجی کو سمجھ لے گا، وہ شاید زیادہ تیزی سے کام کرے گا۔۔۔اور جو اسے نظرانداز کرے گا، اس کے لیے مقابلہ مشکل ہوسکتا ہے۔
تو کیا اے آئی آرٹ ختم کردے گا؟شاید نہیں۔۔۔ لیکن اے آئی آرٹ بنانے کا طریقہ ضرور بدل دے گا۔ برش شاید ہاتھ میں رہے یا نہ رہے۔۔لیکن تخلیق کا خواب انسان کے اندر ہی رہے گا۔کیونکہ مشین تصویر بنا سکتی ہے۔۔۔مگر تصویر کے پیچھے چھپی کہانی کون لکھے گا؟ فی الحال جواب ہے۔۔۔ انسان۔







