اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان آرڈیننس فیکٹریز میں شہید طرز کے نئے بغیر پائلٹ جنگی ہتھیار کی تیاری سامنے آئی ہے، جسے پاکستان فوج کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں سے جوڑا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق 29 اگست کو چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز کا دورہ کیا، جہاں انہیں مختلف دفاعی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران نئی گیس سے چلنے والی اسالٹ رائفل، کواڈ کاپٹر کے ذریعے گرائے جانے والے نئے جنگی ہتھیاروں سمیت ایک ایسے بغیر دم کے تکونی ساخت والے خودکش یا یک طرفہ حملہ آور ڈرون کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس کا تصور ایران کے شہید 136 ڈرون سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس نوعیت کے کم از کم دو طویل فاصلے تک مار کرنے والے جنگی ہتھیار زیرِ تیاری ہیں۔ ان میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا ڈی 248 بھی شامل ہے، جس کی مبینہ حدِ پرواز 2 ہزار 200 سے 3 ہزار کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔تاہم نئے تیار کیے جانے والے جنگی ڈرونز کی اصل مار کرنے کی صلاحیت ابھی آزادانہ طور پر تصدیق یا حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔ دفاعی تجزیے کے مطابق دستیاب معلومات کو بعض صورتوں میں تشہیری مقاصد کے لیے بھی پیش کیا جا سکتا ہے، اس لیے ان دعووں کو حتمی صلاحیت سمجھنے سے قبل مزید تصدیق ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افریقی ملک چاڈ میں چینی ساختہ جنگی ڈرونز کی آمد
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان فوج طویل فاصلے تک پہنچ رکھنے والے ایسے جنگی ہتھیاروں پر توجہ دے رہی ہے جو تقریباً 2 ہزار سے 3 ہزار کلومیٹر تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کم لاگت اور پسٹن انجن سے چلنے والے یک طرفہ حملہ آور ڈرون اس حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔تجزیے کے مطابق ریاستی دفاعی ادارے، نجی شعبے اور ٹیکنالوجی شراکت دار اس شعبے میں ممکنہ مواقع کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مقصد بڑی تعداد میں ایسے ڈرون تیار کرنے اور ضرورت پڑنے پر جنگ کے دوران ان کی تیز رفتار پیداوار ممکن بنانا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی مصنوعات میں مقامی اجزا کے استعمال پر بھی توجہ متوقع ہے۔ اس حوالے سے سرکاری دفاعی اداروں کے ساتھ نجی شعبے کے کردار میں اضافے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔












