تہران ( پاک ترک نیوز) آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی، ایران نے آبنائے میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ کردیا۔ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی۔ایک بیان میں ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد امریکی افواج ایران سے 500 میل دور چلی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکامی پر امریکا مختلف اقدامات کر رہا ہے، جبکہ ایران بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے بند ہونے تک ایران سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔جے ڈی وینس کے مطابق تمام آپشنز میز پر ہیں اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول عملی طور پر ختم ہوچکا ہے۔ادھر روس نے ایران سے دوری اختیار کرنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کردیا ہے، جس کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ماسکو کے کردار پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔












