کراچی (پاک ترک نیوز )میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے اہلِ خانہ، نرسری ملازم اور پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کے بیانات قلم بند کر لیے گئے۔
ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے جسم پر جلنے کے نشانات نہیں تھے، صرف رنگ تبدیل ہوا تھا، جبکہ معائنے میں کوئی واضح فریکچر بھی نہیں ملا۔
کمیشن کے سوال پر ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے 2016 میں ایم بی بی ایس مکمل کیا، 2019 میں سروس جوائن کی اور اب تک سو سے زائد پوسٹ مارٹم کر چکے ہیں۔
کمیشن نے پرانی اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں فرق پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اچانک رپورٹ کیوں تبدیل ہوئی؟ کیا یہ غفلت ہے، غلطی ہے یا قتل کی سہولت کاری؟
میر رضا کی والدہ نے بتایا کہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد گیسٹ ہاؤس پہنچے تو تصویر دکھاتے ہی اندر موجود لڑکوں میں بھگدڑ مچ گئی، جبکہ آٹھ افراد نے بتایا کہ تین لوگ دیوار کود کر فرار ہوئے ہیں۔
میر رضا کے والد نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے فوری ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے میں بھی تعاون نہیں کیا۔
دوسری جانب نرسری ملازم نے کمیشن کو بتایا کہ پولیس نے تین دن بعد اس کا بیان ریکارڈ کیا اور اس نے گولی چلنے کی کوئی آواز نہیں سنی۔












