اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کے وسیع اور غیر دریافت معدنی ذخائر کو حکومتی سطح پر اکثر ملکی معیشت کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس دولت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے سیکیورٹی، سرمایہ کاری اور پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نیویارک میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی مالیت 7 ٹریلین ڈالر سے زائد ہے۔
تاہم اس تخمینے کی بنیاد یا یہ رقم کس طریقہ کار کے تحت مقرر کی گئی، اس کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہے، جبکہ ملک کا سیاسی عدم استحکام غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔پاکستان میں قیمتی اور اہم معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن میں ایسے معدنیات بھی شامل ہیں جن کی عالمی سطح پر نئی ٹیکنالوجیز میں استعمال کے باعث مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل کے اصل حجم اور مجموعی مالیت کے حوالے سے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اندازوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔پاکستان میں وسیع معدنی وسائل کے باوجود کان کنی کے شعبے کا مجموعی قومی پیداوار میں حصہ اب بھی انتہائی کم ہے۔سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کی کمی کو معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جاتا ہے۔امریکا نے پاکستان کے اہم معدنیات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جبکہ چین بھی ملک کے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے معدنی ذخائر گیم چینجر،سکیورٹی اور سیاسی عدم استحکام بڑی رکاوٹ قرار
تاہم پاکستان کے معدنی ذخائر کا بڑا حصہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار علاقوں میں موجود ہے، جہاں امن و امان کی صورتحال غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اہم تشویش بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر حکومت واقعی غیر ملکی سرمایہ کاری لانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ان علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانا ہوگی، تاہم صرف سیکیورٹی پر مبنی حکمت عملی کافی نہیں ہوگی۔ماہرین کے مطابق اگر پاکستان معدنی دولت سے طویل مدتی معاشی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو صرف کان کنی کافی نہیں، بلکہ ملک کے اندر خام مال کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر مبنی صنعتیں قائم کرنا ہوں گی۔
اس سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات میں بھی اضافی قدر شامل کی جاسکے گی۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی معدنی دولت ملکی معیشت کو متنوع بنانے اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔تاہم اس کے لیے سیکیورٹی، مقامی آبادی کی ترقی اور پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔












