بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین کی معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی بی وائی ڈی کے منافع میں پانچ سہ ماہی بعد پہلی مرتبہ اضافہ ہوگیا، جس کی بڑی وجہ بیرونِ ملک فروخت میں نمایاں تیزی کو قرار دیا جارہا ہے۔
بی وائی ڈی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں بیرونِ ملک آمدنی 34 فیصد بڑھ کر 181.3 ارب یوآن ہوگئی، جو کمپنی کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 53 فیصد ہے۔اس کے برعکس گریٹر چائنا میں کمپنی کی آمدنی میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ چین میں گاڑیوں کی فروخت طویل عرصے سے دباؤ کا شکار ہے۔چائنا پیسنجر کار ایسوسی ایشن کے مطابق جولائی میں چین میں مجموعی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں 21 فیصد کمی ہوئی۔قیمتوں میں مسلسل کمی اور مقامی کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلے کے باعث کار ساز کمپنیوں کی ملکی آمدنی متاثر ہورہی ہے۔
چینی کمپنیوں کے درمیان ژیاؤمی اور ایکس پینگ سمیت کئی نئے اور تیزی سے ترقی کرنے والے حریف بی وائی ڈی کے لیے سخت مقابلہ بن چکے ہیں۔بی وائی ڈی کا کہنا ہے کہ چینی آٹو انڈسٹری اس وقت ایسی صورتحال سے گزر رہی ہے جس میں ملکی طلب کمزور جبکہ برآمدات مضبوط ہورہی ہیں۔
چین کی مشکل مقامی مارکیٹ کے برعکس بیرونِ ملک چینی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جولائی میں چین سے مسافر گاڑیوں کی مجموعی بیرونِ ملک فروخت میں 88 فیصد اضافہ ہوا۔بعض ممالک میں چینی کمپنیوں کو اپنی گاڑیاں مقامی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کا موقع مل رہا ہے، اس کے باوجود یہ گاڑیاں مقامی حریفوں کے مقابلے میں نسبتاً سستی رہتی ہیں۔مثال کے طور پر بی وائی ڈی کی سیل یو پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی کی جرمنی میں ابتدائی قیمت تقریباً 39 ہزار 900 یورو ہے، جو چین میں اس کے مساوی ماڈل کی قیمت سے دوگنی سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے نئے فضائی ٹینکر کی حیران کن صلاحیت ، YY-20A اب جنگی طیاروں کو ایندھن دینے کے ساتھ کمانڈ بھی کرے گا
تاہم عالمی مارکیٹ میں بی وائی ڈی اور دیگر چینی کار ساز کمپنیوں کے لیے مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔امریکی مارکیٹ چینی کار سازوں کے لیے تقریباً بند ہوچکی ہے، جبکہ یورپی یونین میں چینی ہائبرڈ گاڑیوں پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔چینی الیکٹرک گاڑیوں پر یورپی یونین پہلے ہی اضافی محصولات عائد کرچکی ہے، جبکہ برازیل اور میکسیکو سمیت بعض دیگر ممالک نے بھی چینی درآمدات پر محصولات نافذ کیے ہیں۔ان حالات کے پیش نظر بی وائی ڈی نے ان مارکیٹوں میں مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں اس کی فروخت زیادہ ہے۔یورپ میں بی وائی ڈی کا ہنگری میں فیکٹری کا منصوبہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔ فیکٹری کی پیداوار شروع ہونے کی تاریخ اب 2026 کی چوتھی سہ ماہی تک مؤخر کردی گئی ہے، جو ابتدائی منصوبے سے تقریباً ایک سال تاخیر ہے۔دوسری جانب بی وائی ڈی نے جاپان کی مشکل آٹو مارکیٹ میں بھی قدم مضبوط کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔
کمپنی نے جاپان کی تنگ سڑکوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی چھوٹی الیکٹرک گاڑی راکّو کی فروخت شروع کردی ہے۔












