
آر اے شمشاد
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں تین میچوں پر مشتمل سیریز کے دوسرے میچ میں آج مد مقابل ہیں ۔ یہ میچ پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت نہ کرنے والے قائد بابراعظم کیلئے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے ۔
پاکستان کو سیریز میں واپسی کیلئے ایڑ ی چوٹی کا زور لگاناپڑے گا جبکہ انگلینڈ سیریز اپنے نام کرنے کیلئے میدان میں اترے گی ۔ اس سے قبل پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو سیریز اور 103رنز کے بڑے مارجن سے شکست سے دوچار کیا تھا ۔
بابراعظم نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ سینئر کھلاڑیوں کو باہر بٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ لارڈز میں مسلسل تیسری فتح حاصل کرکے فتوحات کی ہیٹ ٹرک مکمل کی جائے۔
قومی قائد بابر اعظم نے واضح کیا کہ وہ لارڈز ٹیسٹ کھیلنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔
بابر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ غلطیوں سے سیکھنا اور ذمہ داری لینا ہوگی۔ اگر بولرز مخالف ٹیم کے 20 کھلاڑی آؤٹ کر سکتے ہیں تو بیٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رنز بنائیں۔ یہ ذمہ داری صرف محمد رضوان کی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی ہے۔
پاکستانی ٹیم پہلے ٹیسٹ میں بیٹنگ بائولنگ اور فیلڈنگ سمیت ہر شعبے میں بری طرح ناکام نظر آئی تھی ۔ شائقین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے بھی شدید تنقید کی گئی تھی ۔تاہم عمر گل سمیت کئی کرکٹرز پرامید ہے کہ پاکستان سیریز میں کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: شاہینوں کی اڑان یا انگلش ٹیم کا راج؟
واضح رہے کہ تین میچوں پر مشتمل سیریز کا آخری ٹیسٹ میچ 9ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہو گا ۔ انگلش ٹیم کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے ۔












