بیجنگ (پاک ترک نیوز) چین کا اگلا طیارہ بردار بحری جہاز، جسے ’ٹائپ 004‘ کہا جا رہا ہے، تیزی سے شکل اختیار کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں جہاز کے ڈھانچے اور اگلے حصے کی تعمیر میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ چین کا پہلا جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز ہوسکتا ہے، جس سے چینی بحریہ کی دور سمندری کارروائیوں کی صلاحیت میں بڑا اضافہ متوقع ہے۔
تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں جہاز کا اگلا حصہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مکمل دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اس کا بنیادی ڈھانچہ بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ٹائپ 004 اسی ڈرائی ڈاک میں تیار کیا جا رہا ہے جہاں چین کے پہلے طیارہ بردار بحری جہاز ’لیاؤننگ‘ اور دوسرے طیارہ بردار جہاز ’شان ڈونگ‘ کی تعمیر و تکمیل ہوئی تھی۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق ٹائپ 004 کے موجودہ ہل کی لمبائی تقریباً 320 میٹر اور چوڑائی تقریباً 46 میٹر ہے۔ تعمیر مکمل ہونے اور فلائٹ ڈیک نصب ہونے کے بعد اس کے حجم میں مزید اضافہ متوقع ہے۔چین کا موجودہ سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ تقریباً 316 میٹر طویل ہے، جبکہ امریکی بحریہ کا جدید سپر کیریئر ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ تقریباً 337 میٹر لمبا ہے۔ٹائپ 004 کی سب سے اہم خصوصیت اس کا ممکنہ جوہری انجن ہوگا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں دو ایسے ڈھانچے نظر آئے ہیں جنہیں ممکنہ طور پر ری ایکٹر کے حفاظتی حصے قرار دیا جا رہا ہے۔اگر جوہری توانائی کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ چین کے لیے ایک بڑی تکنیکی اور عسکری پیش رفت ہوگی۔
جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار جہاز کو ایندھن بھرنے کے لیے بار بار بندرگاہ واپس جانے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے، جبکہ زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت جدید ریڈار، سینسرز، ہتھیاروں اور طیارہ لانچنگ سسٹمز کے استعمال میں بھی مدد دیتی ہے۔چین کا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز ’فوجیان‘ پہلے ہی برقی مقناطیسی کیٹاپلٹ یعنی ای ایم اے ایل ایس سے لیس ہے، جو جنگی طیاروں کو رن وے سے تیزی سے لانچ کرنے میں مدد دیتا ہے۔امکان ہے کہ یہی ٹیکنالوجی ٹائپ 004 میں بھی استعمال کی جائے گی، جہاں جوہری توانائی اضافی بجلی کی فراہمی کے باعث اس نظام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں اینویڈیا کے طاقتور ایچ 200 چپس کی پہلی کھیپ پہنچ گئی
ٹائپ 004 کے فضائی بیڑے کے بارے میں بھی کئی سوالات ابھی باقی ہیں، تاہم چین پہلے ہی جے 35 اسٹیلتھ فائٹر، کے جے 600 ابتدائی وارننگ طیارے اور جے 15 جنگی طیاروں کی نئی اقسام تیار کر رہا ہے۔اس کے علاوہ بغیر پائلٹ ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز بھی مستقبل کے چینی طیارہ بردار جہازوں کے فضائی بیڑے کا حصہ بن سکتے ہیں۔چین کی بحری طاقت میں تیزی سے اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چینی بحریہ متعدد جدید جنگی جہاز اور آبدوزیں تیزی سے تیار کر رہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے اندازوں کے مطابق چین 2035 تک اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعداد 9 تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔












