لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کے سمندروں کی گہرائی میں چھپے سولہ کھرب ڈالر تک مالیت کے معدنی خزانے پر امریکا اور چین کے درمیان نئی دوڑ شروع ہوگئی۔ مگر افریقہ کو خطرہ ہے کہ یہ دوڑ اس کی معیشت اور سمندری ماحول دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
دنیا کے سمندر۔۔۔ بظاہر خاموش، لیکن ان کی تہہ میں چھپا ہے ایسا خزانہ جو آنے والے برسوں میں عالمی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔گہرے سمندر میں موجود معدنی ذخائر کی مالیت 16 کھرب ڈالر تک بتائی جا رہی ہے۔یہاں آلو کے حجم جیسی دھاتی گٹھلیاں موجود ہیں، جن میں کوبالٹ، نکل، تانبا اور مینگنیز شامل ہیں، جبکہ زیرِ آب پہاڑوں میں نایاب زمینی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن ارننگ نے بدل دیا کھیل،پاکستانی فری لانسرز کی اربوں ڈالر کی کمائی
یہی وہ معدنیات ہیں جو موبائل فونز، جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں، صاف توانائی اور دفاعی صنعت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔اور اب۔۔۔ امریکا اور چین اس سمندری خزانے کی دوڑ میں آمنے سامنے ہیں۔امریکا چین پر معدنیات کی پروسیسنگ میں انحصار کم کرنا چاہتا ہے، اسی لیے واشنگٹن نے گہرے سمندر سے معدنیات حاصل کرنے کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گہرے سمندر میں کان کنی تیز کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے بعد بحرالکاہل میں تلاش کا عمل تیز ہوگیا۔
چین بھی پیچھے نہیں۔۔۔ بیجنگ کے پاس بین الاقوامی سی بیڈ اتھارٹی کے 31 ایکسپلوریشن معاہدوں میں سے 5 موجود ہیں۔چین گہرے سمندر میں تحقیق اور تلاش کا دائرہ بڑھا رہا ہے، جبکہ 2030 تک بحیرہ جنوبی چین میں مستقل گہرے سمندری تحقیقی مرکز قائم کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔لیکن اس نئی دوڑ سے سب سے زیادہ تشویش افریقہ میں پائی جاتی ہے۔افریقی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر دنیا کی سرمایہ کاری سمندر کی تہہ میں منتقل ہوگئی تو افریقہ کے وسیع معدنی ذخائر نظرانداز ہوسکتے ہیں۔
صرف جمہوریہ کانگو کے معدنی ذخائر کی مالیت تقریباً 24 کھرب ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔ماریشس، موزمبیق، جمہوریہ کانگو، ملاوی، کینیا اور مڈغاسکر سمیت 6 افریقی ممالک گہرے سمندر میں کان کنی پر احتیاطی وقفے یا پابندی کے مطالبے کی حمایت کرچکے ہیں۔لیکن اصل خطرہ صرف اربوں ڈالر کا نہیں۔۔۔ سمندر کی زندگی بھی داؤ پر ہے!ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سمندر کی تہہ میں کان کنی سے ایسے نازک ماحولیاتی نظام تباہ ہوسکتے ہیں جو لاکھوں سال میں تشکیل پائے۔








