واشنگٹن(پاک ترک نیوز ) امریکی فوج نے یورپ میں قائم تجرباتی ڈرون بٹالین ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ تجربہ ایک سال مکمل ہونے سے قبل ہی ختم کیا جارہا ہے، جس کے بعد بٹالین دوبارہ اپنے روایتی ایئربورن انفنٹری مشن پر واپس جائے گی۔
امریکی فوج نے نومبر 2025 میں یورپ اور افریقا میں امریکی فوج، محکمہ فوج اور یو ایس یورپین کمانڈ کے اشتراک سے اس یونٹ کو مخصوص ڈرون فورس کے طور پر کام کرنے اور جدید جنگ میں ڈرونز کے استعمال کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق یونٹ نے یوکرین سمیت مختلف ممالک کی مخصوص ڈرون فورسز کے تجربات سے سیکھنے اور ان تجربات کو امریکی فوج کی ڈرون صلاحیت بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے پر کام کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگست اور ستمبر میں ہونے والی کثیر ملکی فوجی مشق ’’سیبر جنکشن‘‘ کے بعد بٹالین کو دوبارہ ایئربورن انفنٹری مشن پر واپس بھیج دیا جائے گا۔ تاہم فوج کی جانب سے بٹالین کا نام اور اس میں تعینات فوجیوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج کے قائم مقام چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لا نیو نے فوج کی نئی حکمت عملی ’’دی آرمی ایزیمتھ‘‘ جاری کی ہے۔ حکمت عملی میں بغیر پائلٹ نظام سمیت جدید ہتھیاروں سے لیس دشمن کا مقابلہ کرنے اور فوجیوں کی بنیادی جنگی تربیت، تیاری اور چھوٹے یونٹوں کی حربی صلاحیتوں پر زور دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے جون 2025 کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے بعد ڈرون صلاحیتوں میں اضافے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ بعد ازاں جولائی 2025 میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ امریکی فوجی یونٹس کے پاس جدید میدانِ جنگ کے لیے درکار مہلک چھوٹے ڈرونز کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے رواں ماہ ایک کثیر ملکی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فضا، پانی اور زیرِ آب ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز استعمال کرے گی۔












