واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکا اور کینیڈا کے درمیان آخری لمحات میں ہونے والے اہم تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد 50 فیصد اضافی ٹیرف ہفتے کے روز نافذ ہوگئے۔ تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات نئے ٹیرف کی زد میں آئیں گی۔
امریکی اقدام کے تحت ہاکی کا سامان، شراب اور دیگر الکحل مصنوعات، سیمنٹ، ڈیری اور متعدد دوسری کینیڈین مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ یہ ٹیرف کینیڈا کی امریکا کو ہونے والی سالانہ برآمدات کے تقریباً 5 فیصد حصے کو متاثر کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے 1930 کے ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کو استعمال کرتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کینیڈا بعض امریکی مصنوعات، بالخصوص ڈیری اور گاڑیوں کے شعبوں میں امتیازی تجارتی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ کینیڈا نے آخری مرحلے میں نئے مطالبات اور سابقہ وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، جس کے باعث معاہدہ طے نہ پاسکا۔ دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ امریکا نے آخری لمحات میں شرائط تبدیل کیں جو کینیڈا کے لیے غیر منصفانہ اور معاشی طور پر نقصان دہ تھیں۔
مارک کارنی نے امریکا کے نئے ٹیرف کے جواب میں ’’ڈالر کے بدلے ڈالر‘‘ کی بنیاد پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے۔ کینیڈا کی جوابی کارروائی میں اسٹیل، ڈیری، زرعی آلات، الیکٹرانکس اور دیگر امریکی مصنوعات کو ہدف بنایا جائے گا۔
تجارتی تنازع کے باعث دونوں دیرینہ اتحادیوں کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں امریکا اور کینیڈا کے درمیان باہمی تجارت 376 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جس سے دونوں معیشتوں کے باہمی انحصار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔












