لاہور (پاک ترک نیوز )کسان اتحاد نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا، چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے 25 ستمبر کو اسلام آباد میں ملین مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
خالد حسین باٹھ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں نے زراعت کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں گندم کے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
کسان اتحاد نے زرعی شعبے کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ 25 ستمبر کو اسلام آباد میں ملین مارچ کیا جائے گا۔
خالد حسین باٹھ نے پنجاب حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے استعفے کا مطالبہ بھی کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں نے زراعت کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
چیئرمین کسان اتحاد کے مطابق آج پنجاب میں اپنی ضرورت کے مطابق گندم دستیاب نہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران گندم کے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پہلے ہی سال کسانوں نے تقریباً 2200 ارب روپے کا نقصان برداشت کیا۔
خالد حسین باٹھ کے مطابق مسلسل نقصانات کے باعث کسانوں نے گندم کی کاشت میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کردی ہے۔کسان اتحاد کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے نہ صرف درآمدی ضروریات کم کرسکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت زرعی زمین، پانی اور کسان کے تحفظ کو قومی ترجیح بنائے۔خالد حسین باٹھ نے کسانوں کے خلاف مقدمات اور ایف آئی آرز کا سلسلہ بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا ملبہ کسانوں پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ان کے مطابق اگر کسان کو فصل کی مناسب قیمت، پانی، زرعی زمین اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو زرعی پیداوار متاثر ہونا فطری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی مسلسل مالی دباؤ کا شکار ہے اور گندم کی کاشت میں کمی اس بحران کی واضح علامت ہے۔
چیئرمین کسان اتحاد کا کہنا ہے کہ زراعت صرف کسان کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کی معیشت، خوراک اور مستقبل کا معاملہ ہے۔اگر کسان کو تحفظ اور فصل کی مناسب قیمت نہ ملی تو زرعی پیداوار مزید متاثر ہوسکتی ہے۔












