اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں ایک اصطلاح نے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔اینگزائٹی لیول تھری پلس۔۔۔ آخر یہ لیول تھری پلس کیا ہوتا ہے؟ اس کا مریض کی ذہنی کیفیت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اور اس سے نکلنے کے لیے علاج کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹ میں اینگزائٹی یعنی بے چینی کی کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عمران خان کا اینگزائٹی لیول تھری پلس بیان کیا گیا، جسے رپورٹ میں شدید نوعیت کی بے چینی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شدید اینگزائٹی میں انسان کو مسلسل بے چینی، گھبراہٹ، ذہنی دباؤ، بے قراری اور بعض اوقات دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے جیسی علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
عمران خان کی رپورٹ میں بھی سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت درج ہے، تاہم سینے میں درد، سینے پر بوجھ یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں بتائی گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اینگزائٹی لیول تھری پلس کا علاج کیا ہے؟ماہرین کے مطابق علاج کا انحصار علامات کی شدت اور بنیادی وجہ پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی نگرانی میں ادویات، نفسیاتی مشاورت، مناسب جسمانی سرگرمی، بہتر نیند اور سماجی میل جول جیسے اقدامات مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ عمران خان کے معاملے میں میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ،سپریم کورٹ میں چیف کمشنر کی نظرثانی درخواست واپس
رپورٹ میں اخبارات، میگزین، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِخانہ اور شریکِ حیات سے ملاقاتوں کا دورانیہ بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کا آخری طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو ہوا تھا۔ طبی معائنے کے دوران بلڈ پریشر 140/80 اور نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی، جبکہ ای سی جی، سینہ، دل کے والوز اور چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔
یعنی میڈیکل رپورٹ میں جسمانی صحت کے کئی پہلو نارمل قرار دیے گئے ہیں، تاہم اینگزائٹی کی شدید علامات کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں بروقت طبی نگرانی، مناسب علاج اور مریض کے لیے سازگار ماحول انتہائی اہم ہوتا ہے۔











