لاہور( پاک ترک نیوز) خلاء میں پانی کا ایسا حیرت انگیز ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس نے ماہرینِ فلکیات کو بھی حیران کردیا۔۔۔ سائنس دانوں کے مطابق ایک دور دراز کوازار کے گرد موجود پانی کے بخارات کی مقدار زمین کے تمام سمندروں میں موجود پانی سے تقریباً 140 ٹریلین گنا زیادہ ہے۔
لیکن یہ پانی کسی سمندر یا جھیل کی شکل میں نہیں بلکہ خلا میں پھیلے ہوئے انتہائی وسیع گیس کے ذخیرے کی صورت میں موجود ہے۔
ماہرین فلکیات نے یہ دریافت 2011 میں ایک مشاہدے کے دوران کی تھی۔
یہ کوازار زمین سے تقریباً 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے، یعنی سائنس دان اسے دراصل اس وقت کی حالت میں دیکھ رہے ہیں جب کائنات کی عمر صرف تقریباً 1.6 ارب سال تھی۔
اس کوازار سے آنے والی روشنی میں پانی کے مالیکیولز کی مخصوص ریڈیو لہروں کے آثار دریافت کیے گئے۔
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ ماہرین کی ٹیم نے مختلف مشاہداتی آلات کے ذریعے پانی کے مالیکیولز کی چھ مختلف گردشاتی منتقلیوں کے آثار ریکارڈ کیے۔
ایک اور آزاد ٹیم نے بھی اسی کوازار سے پانی کے مالیکیولز کی ایک الگ منتقلی کا مشاہدہ کیا، جس سے دریافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
سائنس دانوں نے پانی کو براہِ راست نہیں دیکھا بلکہ مخصوص فریکوئنسی پر خارج ہونے والی ریڈی ایشن کے ذریعے پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا سراغ لگایا۔
ماہرین نے پانی کی مقدار، مالیکیولر گیس کے مجموعی ذخیرے، مختلف گیسوں کی کثافت اور دیگر سائنسی ماڈلز کو ملا کر پانی کے بخارات کی مجموعی مقدار کا اندازہ لگایا۔
اس وسیع خطے میں پانی کی مقدار انتہائی کم تناسب میں موجود ہے، لیکن مالیکیولر گیس کی غیر معمولی بڑی مقدار کے باعث مجموعی ذخیرہ حیرت انگیز حد تک زیادہ ہوجاتا ہے۔
یہ کوازار دراصل ایک انتہائی فعال سپر میسیو بلیک ہول کے گرد موجود کہکشانی مرکز ہے۔
بلیک ہول خود روشنی خارج نہیں کرتا۔۔۔ اس کے گرد موجود مادہ جب انتہائی تیزی سے بلیک ہول کی جانب بڑھتا ہے تو شدید گرم ہوکر زبردست توانائی خارج کرتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس کوازار سے خارج ہونے والی توانائی تقریباً ایک ہزار ٹریلین سورج کے برابر ہوسکتی ہے۔
ایکس ریز اور انفراریڈ تابکاری نے گیس کو گرم کیا اور پانی کے مالیکیولز کو توانائی کی بلند حالتوں میں پہنچایا، جس کے بعد ان مالیکیولز سے خارج ہونے والی مخصوص ریڈی ایشن زمین پر موجود دوربینوں نے ریکارڈ کی۔
یوں پانی صرف ایک حیرت انگیز مقدار کے طور پر سامنے نہیں آیا بلکہ اس نے ابتدائی کائنات میں بلیک ہول کے گرد موجود درجہ حرارت، کثافت اور تابکاری کے ماحول کا سراغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ایک سامنے موجود کہکشاں کی کششِ ثقل نے اس کوازار سے آنے والی روشنی کو موڑ کر اسے زیادہ روشن دکھایا۔
اسی وجہ سے پانی کی مقدار اور کوازار کی اصل توانائی کا اندازہ مختلف ماڈلز کے تحت تبدیل ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں پانی کم پینا کتنا خطرناک
یعنی 140 ٹریلین سمندروں کا عدد ایک سائنسی اندازہ ہے، کوئی ایسا ذخیرہ نہیں جسے خلا میں موجود کسی ’’پانی کے سمندر‘‘ کے طور پر دیکھا گیا ہو۔
اس دریافت کا سب سے بڑا سائنسی راز صرف پانی کی بے پناہ مقدار نہیں۔۔۔ بلکہ یہ حقیقت ہے کہ کائنات کی عمر صرف 1.6 ارب سال تھی اور اس وقت بھی پانی کے بخارات اتنی بڑی مقدار میں موجود تھے کہ وہ ایک انتہائی طاقتور بلیک ہول کے گرد ماحول کا سراغ فراہم کرسکیں۔
اربوں نوری سال دور پانی کا یہ ذخیرہ ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں بھی پانی اور اس کے اجزا ہماری توقع سے کہیں زیادہ عام تھے۔











