لاہور( پاک تر ک نیوز) ناظرین! ذرا سوچئے۔۔۔ اگر کوئی انسان یہ فیصلہ کرے کہ وہ کچھ وقت کے لیے کتے جیسی شکل اختیار کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے لاکھوں روپے خرچ کر ڈالے، تو یقیناً یہ بات ہر کسی کو حیران کر دے گی۔
سوشل میڈیا پر ایک ایسی ہی دلچسپ اور حیران کن خبر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ جاپان کے ایک 26 سالہ شخص نے خود کو کتے کی شکل دینے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے اور کئی سرجریاں بھی کروائیں۔
وائرل پوسٹ میں کہا گیا کہ نوجوان نے اپنے جسم میں مستقل تبدیلیاں کروائیں اور صرف شکل ہی نہیں بلکہ رویے کے اعتبار سے بھی خود کو کتے جیسا بنا لیا۔
لیکن کیا حقیقت میں کسی شخص نے انسان سے جانور بننے کے لیے خطرناک سرجریاں کروائیں؟
تحقیق میں سامنے آیا کہ اس دعوے کی حقیقت کچھ اور ہے۔ اس واقعے کا تعلق جاپان کے ایک شخص سے ہے، جو "ٹوکو” کے نام سے مشہور ہوا۔ تاہم ٹوکو نے کتے جیسی شکل حاصل کرنے کے لیے کوئی سرجری نہیں کروائی۔
درحقیقت اس نے جاپان کی ایک خصوصی کمپنی سے کولی نسل کے کتے جیسا انتہائی حقیقت پسندانہ لباس تیار کروایا تھا۔ لباس اس قدر باریک بینی اور مہارت سے بنایا گیا کہ اسے دیکھ کر پہلی نظر میں حقیقت اور مصنوعی شکل میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ لاکھوں روپے آخر کہاں خرچ ہوئے؟
رپورٹس کے مطابق اس خصوصی لباس کی تیاری پر تقریباً 20 لاکھ جاپانی ین خرچ ہوئے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 35 لاکھ روپے کے برابر بنتے ہیں۔ یعنی یہ رقم کروڑوں روپے نہیں بلکہ لاکھوں روپے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کا اپنا خودمختار سیٹلائٹ نیویگیشن نظام فعال
ٹوکو کے مطابق کتے جیسا لباس پہننا اس کا ذاتی شوق تھا، جبکہ جانوروں سے اس کی دلچسپی اور بچپن کی خواہش نے اسے یہ منفرد تجربہ کرنے پر آمادہ کیا۔
تو ناظرین! سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ کہانی گمراہ کن اور فیکٹلی غلط ہے۔ جاپانی شخص نے خود کو کتا بنانے کے لیے کوئی سرجری نہیں کروائی، بلکہ ایک انتہائی حقیقت سے قریب کتے کا لباس تیار کروایا تھا، جسے بعد میں سوشل میڈیا پر سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا۔












