
از : سہیل شہریار
قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے حماس کی قیادت پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے سامنے آنے والی تازہ ترین امریکی تجویز کو قبول کرے۔ انہوں نے حماس پر یہ واضح کیا کہ امریکی تجویز جو ثالثوں کے ذریعے پہنچائی گئی ہے۔ اس کا مقصد فوری جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی ہے۔جبکہ اسکی شرائط پر عمل درآمد کے لئے امریکی صدر نے ذاتی گارنٹی دی ہے۔حماس کی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ اسے امریکا کی طرف سے تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر وہ ثالثوں کے ساتھ مل کر غور کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے حماس کو "آخری انتباہ” جاری کیا ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرے اور اگر ایسا نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ عرب اور اسرائیلی میڈیا میں نئی امریکی تجاویز کی سامنے آنے والی شقوں کے مطابق :حماس کو تمام قیدیوں کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ معاہدے پر دستخط کے 48 گھنٹوں کے اندر رہا کرنا ہو گا۔
اسی مدت میں فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد بھی آزاد کی جائے گی۔ جن میں عمر قید کی سزا پانے والے اور غزہ کے قیدی بھی شامل ہیں۔
جنگ بندی کا آغاز فوری طور پر ہوگا جو 60 دن تک جاری رہے گی یا پھر مذاکرات مکمل ہونے تک قائم رہے گی۔ اس دوران صدر ٹرمپ ذاتی طور پر ضمانت دیں گے کہ سب فریق سنجیدگی سے بات چیت اور معاہدے کی پاسداری کریں۔
https://www.youtube.com/watch?v=S7dzehxsC04&t=8s
مذاکرات میں حماس کے کردار، اسلحہ رکھوانے، نئی حکومت کی تشکیل، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کے اراکین کے لیے عام معافی جیسے معاملات شامل ہوں گے۔جبکہ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ ہی غزہ میں امداد کی ترسیل کھول دی جائے گی۔
حماس نے اس سے قبل امریکی نمائندہ خصوصی کی اس سے ملتی جلتی تجویز کو اسرائیلی انخلا اور جنگ بندی کی ٹھوس ضمانت کے ساتھ مشروط طور پر قبول کرنے کی بات کی تھی۔ جبکہ اس مرتبہ سامنے آنے والے حماس کی قیادت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے اپنی فوری آمادگی کا اعادہ کرتے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے واضح اعلان کے بدلے میں تمام قیدیوں کی رہائی، غزہ سے مکمل انخلا، اورمعتبر فلسطینی شخصیات پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے غزہ کا انتظام چلانے پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں۔
ادھراسرائیل نےبھی نئی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ پیر کے روز اپنی پریس کانفرنس میں اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ اسرائیل تمام قیدیوں کے بدلے اور حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بدلے جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل کی حمایت کے باوجود، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل بعد میں اس تجویز کو گھمانے کی کوشش کرے گا اور دعویٰ کرے گا کہ اس نے اسے قبول کر لیاتھا جب کہ حماس نے انکار کیا ۔جیسا کے وہ پہلے سے کرتا آ رہا ہے۔
مزید براں حماس نے بھی پہلے سے کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار صرف اسی صورت میںڈالے گی جب اسرائیل غزہ سے دستبردار ہو جائے اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست کے قیام پر رضامند ہو جائے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔












