واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکی کانگریس کی جانب سے بغیر کسی اعتراض کے نظرثانی کی مدت مکمل ہونے کے بعد ترکیہ کے مقامی طور پر تیار کردہ جدید ترین پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کان میں استعمال ہونے والے جنرل الیکٹرک کے تیار کردہ انجنوں کی مجوزہ فروخت کے سلسلے میں امریکہ نے ایک اہم ضابطہ جاتی مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
‘کان لڑاکا طیارے کے ذریعے انقرہ ان چند ممالک کے خصوصی گروپ میں شامل ہونے کا خواہاں ہے جو پانچویں نسل کے جنگی طیارے تیار کرتے ہیں۔ اس گروپ میں نمایاں طور پر امریکہ، چین اور روس شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 24 جون کو کانگریس کو اس مجوزہ فروخت کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کیا تھا جس کے بعد 15 روزہ نظرثانی کا عمل شروع ہوا جو نیٹو رکن ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت پر لاگو ہوتا ہے۔اس مدت کے دوران کانگریس کے نو ارکان نے ایک مشترکہ قرارداد پیش کی جس کا مقصد ترکی کو بعض دفاعی آلات، خدمات اور متعلقہ معاونت کی فراہمی روکنا تھا۔تاہم، نظرثانی کی مدت ختم ہونے سے قبل اس قرارداد کو نہ تو ایوانِ نمائندگان اور نہ ہی سینیٹ میں بحث کے لیے پیش کیا گیا۔
اس فروخت میں جنرل الیکٹرک کے تیار کردہ جی ای۔129ای اور ایف ۔110ماڈلز کے انجنوں سے متعلق انضمام، اسمبلی، بیرونی ترامیم، سرٹیفیکیشن، ٹیسٹنگ، دفاعی خدمات اور تکنیکی ڈیٹا کی منتقلی شامل ہے۔کیونکہ یہی انجن کان جیٹ کو طاقت فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ ایف35 کی واپسی کیلئے ایس400 سے جان چھڑانا چاہتا ہے
ترکیہ اپنے پانچویں نسل کے اس لڑاکا طیارے پر ایک دہائی سے کام کر رہا ہے۔ اس جیٹ کو پہلی بار 2023 میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور 2024 کے اوائل میں اس نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کی تھی۔ اب انجنوں کی دستابی یقینی بنائے جانے کے بعد توقع ہے کہ اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز 2028 میں ہوگا۔
‘کان کو فضائیہ کے پرانے ہوتے ہوئے ایف۔ 16 طیاروں کے بیڑے کی جگہ لانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جنہیں 2030 کی دہائی کےدوران مرحلہ وار سروس سے ہٹانے کا منصوبہ ہے۔












