واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی فضائیہ نے مستقبل کے تیز رفتار میزائلوں کی تیاری کے لیے گردشی دھماکہ خیز انجن کی ٹیکنالوجی پر کام تیز کر دیا ہے، جس کا مقصد ایسے میزائل تیار کرنا ہے جو زیادہ رفتار اور طویل فاصلے تک مار کی صلاحیت کے ساتھ بڑے پیمانے پر کم لاگت میں تیار کیے جا سکیں۔امریکی فضائیہ کی تحقیقاتی تجربہ گاہ نے گردشی دھماکہ خیز راکٹ انجن کو مشترکہ چکر کے نظام کے ساتھ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو موجودہ تیاری کی سطح تین سے بڑھا کر سطح چھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد اسے عملی حالات سے قریب تر ماحول میں آزمایا جائے گا۔
منصوبے کے تحت زمین سے داغے جانے والے ایک تجرباتی میزائل نما نظام میں یہ انجن نصب کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں تجرباتی نظام کو ایک راکٹ کے ذریعے رفتار دی جائے گی، جس کے بعد زیرِ تجربہ انجن کو فعال کیا جائے گا۔امریکی فضائیہ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد تیز رفتار اور کم لاگت میں بڑی تعداد میں تیار کیے جانے والے ہتھیاروں کے تصور کو عملی شکل دینا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال میں فضا سے زمین پر مار کرنے والے طویل فاصلے کے ہتھیار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائل اور زمین سے داغے جانے والے نظام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں طلبہ احتجاج، سکیورٹی خدشات کے باعث 500 اسکول بند رکھنے کا فیصلہ
گردشی دھماکہ خیز انجن روایتی راکٹ انجن سے مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ اس میں دہن کے حصے کے اندر انتہائی تیز رفتار دھماکہ خیز لہریں ایک حلقہ نما راستے میں گردش کرتی ہیں۔ امریکی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ان لہروں کی رفتار دو کلومیٹر فی سیکنڈ سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔اس ٹیکنالوجی کا اہم فائدہ کم جگہ میں زیادہ طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت قرار دیا جا رہا ہے۔ میزائل کے اندر محدود جگہ میں انجن، ایندھن، وار ہیڈ، رہنمائی اور دیگر برقی نظام نصب کیے جاتے ہیں، اس لیے اگر انجن کا حجم کم کیا جا سکے تو اضافی جگہ ایندھن یا دوسرے نظاموں کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔












