تہران ( پاک ترک نیوز) خطے میں امن کے لئے پاکستان کی کاوشیں رنگ لے آئیں، امریکا ایران معاہدے کے لئے تیار ہو گئے۔ دستخط کی تقریب جنیوا میں ہوگی، وزیراعظم شہبازشریف بھی شرکت کریں گے۔
وزیراعظم شہبازشریف کا کہناہے امن اب پہلے سے زیادہ قریب ہے، معاہدے پر دونوں فریقین اتفاق کر چکے،، پاکستان دونوں فریقین کے ساتھ مل کر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے کام کر رہا ہے
ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط جی سیون اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع ہیں۔ جی سیون ممالک کا سربراہ اجلاس فرانس کے شہر ایویان میں 15 جون سے 17 جون کے درمیان ہورہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے سینیئر اہلکار کے مطابق اگر تمام تر صورتحال برقرار رہی اور امن عمل کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ممکن ہے ڈیل پر دستخط اجلاس سے ایک روز پہلے یعنی 14 جون ہی کو کرلیے جائیں۔
امکان ہے کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی ایران کی نمائندگی کریں گے جبکہ امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی جانب سے کیے جانے کی توقع ہے۔بطور اہم ترین ثالث، پاکستان کی وزارت خارجہ کا اعلیٰ ترین سطح پر وفد بھی اس اہم تقریب میں موجود ہوگا۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے، تبدیلی ممکن ہے، جوہری معاملات بعد کے مراحل میں زیر بحث آئیں گے۔ ایران کے ایٹمی معاملے کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ امریکا کے ایٹمی مطالبات اس مرحلے پر ہمیں قابل قبول نہیں ۔ہمارے معاہدے میں لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ کا خاتمہ شامل ہو گا ۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا ایران امریکا کے خلاف جنگ کا فاتح ہے، ایران امریکا جنگ کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ جنگ سے پہلے کے دور میں واپس نہیں جائے گی۔ ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنائے گا۔ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے بات چیت میں زیادہ تر امور پر سمجھوتے طے پا گئے ہیں، داخلی مشاورت حتمی نتیجے تک پہنچنے کے آخری مرحلے میں ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے صرف ملاقات یا ڈیل پر دستخط کرنے پر ایرانی منجمد فنڈ بحال نہیں ہوں گے، مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو ذمہ داریاں پوری کرنے پر معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
دنیا کی نظریں اب جنیوا اور جی سیون اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والی پیش رفت نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔












