نئی دہلی (پاک ترک نیوز )امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بھارت سے روانگی کے وقت سفارتی پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی کی گئی
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو الوداع کرنے کوئی وفاقی وزیر یا اعلیٰ حکومتی شخصیت موجود نہ تھی-
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سکیورٹی، انڈو پیسیفک تعاون اور اسٹریٹجک امور پر اہم مذاکرات کیلئے بھارت آئے تھے
کے ایم ایس کے مطابق دنیا کی بڑی طاقت کے وزیر خارجہ کو صرف ایک ڈی ایس پی اور پولیس انسپکٹر کے ذریعے رخصت کرنا بھارت کی سفارتی نااہلی اور غیر سنجیدگی کی واضح مثال بن گیا۔ بھارتی پولیس کا یونیفارم اور ٹرن آوٹ کسی بھی پیشہ ورانہ فورس کے لئے باعث شرمندگی تھا- یورپ سے امریکہ تک مسلسل سفارتی تنازعات اور شرمندگیوں نے مودی حکومت کو مزید تنہا کر دیا ہے-
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھارت میں غیر معمولی کم پروٹوکول دیے جانے کے پیچھے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے اختلافات کارفرما قرار دیے جا رہے ہیں۔ تجارتی تنازعات، ٹیرف کشیدگی اور امریکہ کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے روابط نے بھارت کو سفارتی طور پر بے چین کر رکھا ہے-ایران اور روس کے معاملات پر اختلافات نے بھی امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں خاموش تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کو سرد الوداع بھارتی سفارتکاری میں بڑھتی غیر پیشہ ورانہ سوچ، پالیسی کنفیوژن اور کمزور خارجہ سگنلز کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی غیر پیشہ ورانہ سوچ، غرور اور ادارہ جاتی کمزوری دنیا کے سامنے نمایاں ہو گئی۔
واشنگٹن کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر نئی دہلی کی ناراضگی اور بد اعتمادی کا ایسا مظاہرہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔بھارتی میڈیا پاکستان مخالف سوالات میں مصروف رہا –












